الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي حِظُوَتِهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَحُبِّهِ إِيَّاهَا وَإِجَابَةِ طَلَبِهَا فِي غَيْرِ مَحْظُورٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11419
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ فَمِنَ الرِّجَالِ قَالَتْ أَبُوهَا
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ انھوں نے کہا: عائشہ سے، میں نے کہا: مردوں میں سے؟ انھوں نے کہا: اس کے باپ سے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11419]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26574»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 11420
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ
ام المؤمنین سید عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لیےیہ بات اطمینان بخش ہے کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہتھیلی کی چمک جنت میں دیکھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11420]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مصعب بن اسحاق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25590»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کو شیخ البانی نے درج ذیل الفاظ کے ساتھ صحیحہ میں ذکر کیا ہے: اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظیم منقبت بیان کی گئی ہے کہ وہ جنت میں نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہوں گی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز پر اتنے خوش ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت کے سکرات اور سختیاں ہلکی محسوس ہو رہی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة مصعب بن اسحاق
حدیث نمبر: 11421
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ ”لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ“ فَقَالَتِ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میں یمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اس کو دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹی یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11421]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وجھالة ام محمد، اخرجه ابويعلي: 4471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25211»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کا درج ذیل سیاق صحیح ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11422
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ ”هَذِهِ قِسْمَتِي“ ثُمَّ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11422]
تخریج الحدیث: «ضعيف، لكن قوله كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِةِ فَيَعْدِلُ صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2143، والترمذي: 1140،و ابن ماجه: 1971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25624»
وضاحت: فوائد: … کسی ایک بیوی کی طرف دلی میلان تو زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن بظاہر ہر ایک کے ساتھ برابری کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 11423
عَنْ سُمَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي شَيْءٍ فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِ يَوْمِي فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ“ قَالَتْ {ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ} [سورة الجمعة: 4] وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے نا راض ہوگئے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر ان سے کہا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے راضی کرا دیں تو میں اپنی ایک باری آپ کو دوں گی۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، پس انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا اور اس پر پانی چھڑکا، تاکہ اس کی خوشبو مہک اٹھے، اور پھر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! پرے ہٹ جاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے۔ لیکن سیدہ نے جواباً یہ آیت پڑھی: {ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْیَشَائُ} … یہ تو اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا کر دیتا ہے۔ پھر انہوں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہوگئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11423]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سمية بصرية، اخرجه ابن ماجه: 1973، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25147»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة سمية بصرية
حدیث نمبر: 11424
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ“ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سوا آپ کی تمام ازواج نے کنیت رکھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ام عبداللہ کنیت رکھ لو۔ پس ان کو ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوئی بچہ جنم دیئے بغیر سیدہ وفات پا گئیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 23/35، عبد الرزاق: 19858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25696»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے بیٹے کا نام عبد اللہ تھا، سیدہ عائشہ کی کنیت ام عبد اللہ اسی ان کے بھانجے کی وجہ سے رکھی گئی تھی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح