الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي حِظُوَتِهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَحُبِّهِ إِيَّاهَا وَإِجَابَةِ طَلَبِهَا فِي غَيْرِ مَحْظُورٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11424
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ“ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سوا آپ کی تمام ازواج نے کنیت رکھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ام عبداللہ کنیت رکھ لو۔ پس ان کو ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوئی بچہ جنم دیئے بغیر سیدہ وفات پا گئیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 23/35، عبد الرزاق: 19858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25696»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے بیٹے کا نام عبد اللہ تھا، سیدہ عائشہ کی کنیت ام عبد اللہ اسی ان کے بھانجے کی وجہ سے رکھی گئی تھی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11424 in Urdu