🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
انصار کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11540
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت کرنا ایمان کی اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11540]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 17، 3784،ومسلم: 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12396»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 17
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11541
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ حُبُّهُمْ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ“
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کا یہ قبیلہ لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11541]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/159، والبزار: 3736، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22829»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ انصار کی محبت اور بغض کے ذریعے آزمائے گا، جس نے محبت کی، وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے بغض رکھا، وہ ناکام ہو گیا، گویا کہ ایمان اور نفاق کی کسوٹی اور معیار انصار ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11542
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَوْ إِلَّا أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جو آدمی انصار سے بغض رکھتا ہو، اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11542]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2818»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11543
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونُ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہوتا، جب شدیدجنگ چھڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے چلے جاتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11543]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اخرجه الطبراني: 12083، وعبد الرزاق: 9640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3486»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11544
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ يَنْدَفِعُ النَّاسُ فِي شِعْبَةٍ أَوْ فِي وَادٍ وَالْأَنْصَارُ فِي شِعْبَةٍ لَانْدَفَعْتُ فِي شِعْبِهِمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک گھاٹی یا وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11544]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه عبد الرزاق: 19907، وابن حبان: 7269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8154»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11545
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ خَطَبَهُمْ فَقَالَ ”يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ“ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ”أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ“ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ”أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ“ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا تُجِيبُونَنِي أَلَا تَقُولُونَ أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً سَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شِعْبَتَكُمْ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے جمع ہو کر آپس میں کچھ ایسی باتیں کیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں کوہمارے اوپر ترجیح دی ہے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو جمع کرکے ان سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لوگ ذلیل اور رسوا تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت سے نوازا؟ انھوں نے کہا؛ اللہ اور اس کے رسول کی بات درست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے اور اللہ نے تمہیں ہدایت سے نوازا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بات بھی صحیح نہیں کہ تم لوگ غریب تھے اور اللہ نے تمہیں غنی اور خوشحال کیا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات صحیح ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے جوابا ً یوں کیوں نہیں کہتے کہ اے رسول! آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر بدر کر دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر ہمار ے پاس پہنچے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امن دیا؟اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ہمراہ لے کر جاؤ اور تم اس رسول کو اپنے گھروں میں داخل کرو، حقیقت یہ ہے کہ اگر لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں اس گھاٹی یا وادی میں چلوں گا، جس میں تم چلو گے، اگر ہجرت والی سعادت نہ ہوتی تو میں انصاری فرد ہوتا، تم عنقریب میرے بعد اس سے بھی بڑھ کر ترجیح و تفریق ملاحظہ کر و گے، مگر تم ایسی صورت میں بھی صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11545]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه عبد الرزاق: 19918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:11547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11568»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ“ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد بڑی ترجیح و تفریق ملاحظہ کرو گے، لیکن تم ایسی صورت حال میں صبر سے کام لینا،یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11546]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3147، 5860،ومسلم: 1059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12726»
وضاحت: فوائد: … ترجیح و تفریق کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ غیر انصاریوں کو انصاری لوگوں پر ترجیح دی جائے، اس سے بندے کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاریوں کو صبر کرنے کا اور انتقام نہ لینے کا حکم دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3147
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11547
عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ ”لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ“ قَالَ قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ الْبَرَاءَ قَالَ إِيَّايَ يُحَدِّثُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: اہل ایمان ان سے محبت رکھتے ہیں اور منافق ان سے بغض رکھتے ہیں، جو کوئی ان سے محبت کرے گا، اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی ان سے بغض رکھے گا،اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے اپنے شیخ سے کہا: کیا آپ نے خود یہ حدیث سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا:جی سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ہی مجھے بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11547]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18777»
وضاحت: فوائد: … انصار سے محبت اور بغض کا معاملہ ان کے چند افراد کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ تمام انصار کے لیے ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11548
عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَا يُؤْمِنْ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ“
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری دادی نے مجھے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھی) اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11548]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي ثفال المري، أخرجه الترمذي: 25 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27688»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي ثفال المري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11549
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ ”أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ“
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری،یہ کعب ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ اس کو کسی صحابی نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر تشریف لائے اور اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! اے مہاجرین کی جماعت! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انصار آج اپنی پہلی سی تعداد میں نہیں ہیں،یہ انصار میرے خاص اور راز دان لوگ ہیں، جن کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے معزز شخص کا اکرام کرتے رہنا اور ان میں سے کوتاہی کرنے والے سے درگزر کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11549]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16172»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں