🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
انصار کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11550
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا رَهِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ ”مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ“ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمَّا أَرْهَقُوهُ أَيْضًا قَالَ ”مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنِّي وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ“ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ ”مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر چڑھ آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ہمراہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان مشرکین کو ہم سے کون ہٹائے گا، وہ اس عمل کے نتیجہ میں جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ جواباً ایک انصاری آگے بڑھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ جب مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر پھر چڑھ آئے تو آپ نے پھر فرمایا: کون ہے جو ان مشرکین کو ہم سے ہٹائے اور دور رکھے، اس عمل کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دو قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11550]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14102»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا معنییہ ہے کہ قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے کے لیے نکلتے رہے اور جام شہادت نوش کرتے گئے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1789
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11551
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً فَكَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّةً أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ وَإِذَا زَارَ عَامَّةً أَتَى الْمَسْجِدَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص و عام انصار کی زیارت و ملاقات کے لیے کثرت سے تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی خاص آدمی کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے گھر تشریف لے جاتے او ر جب عام لوگوں سے ملاقات کرنا ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11551]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن ابي بكر بن ابي موسي الاشعري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19792»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن ابي بكر بن ابي موسي الاشعري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11552
عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقُلْتُ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَبَلَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ“
سیدنا ابو عقبہ رضی اللہ عنہ، جو کہ ایک فارسی غلام تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، میں نے ایک مشرک پر زبردست قسم کا وار کرتے ہوئے کہا: لے مزہ چکھ، میں ایک فارسی لڑکا ہوں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ لے مزہ چکھ، میں ایک انصاری لڑکا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11552]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن ابي عتبة في عداد المجھولين، اخرجه ابوداود: 5123،وابن ماجه: 2784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22882»
وضاحت: فوائد: … بہتر یہی ہے کہ اسلامی نسبت اختیار کی جائے، انصار کی طرف نسبت اسلامی نسبت ہے، جبکہ اہل فارس کافر تھے اور ان کی طرف نسبت کرنا جہالت کا کام تھا۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11553
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11553]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 4/ 83، وابن حبان: 7267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26737»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں انصار لوگوں کے حسن اخلاق، تقوی اور پاکدامنی کو واضح کیا گیا ہے کہ کسی عورت کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اپنے والدین کے گھر میں آباد ہے یا انصار کے گھر میں آ چکی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں