🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَاب مَا جَاءَ فِي النُّجَبَاءِ وَالْأَبْدَالِ وَأَصْحَابِ الصُّفَّةِ
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11594
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ نُجَبَاءَ وُزَرَاءَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ حَمْزَةُ وَجَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالْمِقْدَادُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَيْفَةُ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَبِلَالٌ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات بہترین اور عمدہ ساتھی بطور وزیر دیئے گئے تھے، جبکہ مجھے اس قسم کے چودہ افراد دیئے گئے ہیں، ان کے نام یہ ہیں، حمزہ، جعفر، علی، حسن، حسین، ابو بکر، عمر، مقداد، عبداللہ بن مسعود، ابو ذر، حذیفہ، سلمان، عمر، بلال۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11594]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، كثير النوائ، الجمھور علي تضعيفه، وعبد الله بن مليل لم يوثقه غير ابن حبان، اخرجه البزار: 896، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1263»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11595
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا“ قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ الْوَهَّابِ كَلَامٌ غَيْرُ هَذَا أَوْ هُوَ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام جیسے تیس ابدال ہوں گے، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11595]
تخریج الحدیث: «منكر، واسناده ضعيف من اجل الحسن بن ذكوان وعبد الواحد بن قيس السلمي، ثم رواية ھذا الاخير عن عبادة مرسلة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23131»
وضاحت: فوائد: … ابدال کی واحد بدل ہے، لوگوں میں مشہور ہے کہ ہر زمانے میں اللہ کے انتہائی مقرب بندے روئے زمین پر موجود رہتے ہیں، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے کو اس کا نائب بنا دیتا ہے، ان مقرب شخصیات کو ابدال کہتے ہیں۔ مگر ابدال کے متعلق یہ تصور کسی صحیح حدیث میں ثابت نہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11596
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْنَا الْحَوْتَكِيَّةُ فَيَقُولُ ”لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ وَلَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ“
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس صفہ میں تشریف لاتے، جبکہ ہم پر پگڑی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اگر تم یہ جان لو کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا کچھ جمع ہے، تو تمہیں ان چیزوں پر کوئی غم نہیں ہو گا، جو تم کو دنیا میں نہیں دی گئیں،یاد رکھو کہ تمہارے ہاتھوں فارس اور روم ضرور بالضرور فتح ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11596]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يدرك العرباض بن سارية، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17293»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ فقیری کا انجام خیر بہت اچھا ہے، جیسا کہ فضالہ بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو نماز کے قیام کی وجہ سے لوگ بھوک کی وجہ سے گر پڑتے تھے اور یہ اصحاب صفہ ہوتے تھے، بدّو لوگ ان کے بارے میں کہتے تھے: یہ تو پاگل لوگ ہیں، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْتَعْلَمُوْنَ مَا لَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ لَاَحْبَبْتُمْ اَنْ تَزْدَادُوْا حَاجَۃً وَّ فَقْرًا۔)) … اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا اجرو ثواب ہے تو تم پسند کرو گے کہ تمہاری حاجت اور فقیری میں اور اضافہ ہو جائے۔ (ترمذی: ۲۳۶۸)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں