🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَسَّانَ بْن ثَابِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11678
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْرِ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھوایا تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر (کفار کے ہجو والے اشعار کے جواب میں) اشعار پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: حسان جب تک اللہ کے رسول کا دفاع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت تک روح القدس یعنی جبریل علیہ السلام کے ذریعے اس کی مدد فرماتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11678]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: ’وضع لحسان منبرا في المسجد وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي الزناد أخرج مسلم: 2490 عن عائشة مرفوعا ضمن حديث طويل: ان روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24941»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11679
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ”اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ“
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مشرکین کی ہجو کا جواب دو، جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11679]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3213، 4123،ومسلم: 2486، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18901»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ شاعر اسلام اور شاعر رسول تھے، وہ اپنے کلام کے زور پر دشمنانِ رسول کو لاجواب کر دیتے تھے، اس سلسلے میں ان کو جبریل علیہ السلام کا تعاون بھی حاصل تھا۔
عہد نبوی میں دشمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اشعار کے ذریعے ان کی مذمت کی جاتی تھی اور یہ شعری مجموعے ان پر قیامت بن کر برستے تھے، جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بِالنَّبْلِ فِیْمَا تَقُوْلُوْنَ لَھُمْ مِنَ الشِّعْرِ۔)) (صحیحہ:۱۹۴۹) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے)جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں