🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. بَابُ مَا جَاءَ فِي صُهَيْبِ بْنِ سِنَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11747
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِصُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَوْلَا ثَلَاثُ خِصَالٍ فِيكَ لَمْ يَكُنْ بِكَ بَأْسٌ قَالَ وَمَا هُنَّ فَوَاللَّهِ مَا نَرَاكَ تَعِيبُ شَيْئًا قَالَ اكْتِنَاؤُكَ بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَادِّعَاؤُكَ إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ وَأَنْتَ رَجُلٌ أَلْكَنُ وَأَنَّكَ لَا تُمْسِكُ الْمَالَ قَالَ أَمَّا اكْتِنَائِي بِأَبِي يَحْيَى فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي بِهَا فَلَا أَدَعُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ وَأَمَّا ادِّعَائِي إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ فَإِنِّي امْرُؤٌ مِنْهُمْ وَلَكِنْ اسْتُرْضِعَ لِي بِالْأَيْلَةِ فَهَذِهِ اللُّكْنَةُ مِنْ ذَاكَ وَأَمَّا الْمَالُ فَهَلْ تَرَانِي أُنْفِقُ إِلَّا فِي حَقٍّ
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ کے اندر تین خصلتیں نہ ہوں تو آپ میں کوئی حرج نہیں ہو گا، انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کونسی ہیں؟ اللہ کی قسم! آپ کو کسی چیز کی عیب جوئی کرتے نہیں دیکھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک تو یہ کہ آپ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ آپ کی اولاد نہیں، دوسرے یہ کہ آپ نمر بن قاسط جیسے عظیم شخص کی طرف انتساب کرتے ہیں، جبکہ آپ کی حالت یہ ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت ہے اور تیسری بات یہ کہ آپ کے پاس جتنی بھی دولت آجائے آپ اسے خرچ کر ڈالتے ہیں، اسے جمع نہیں رکھتے۔ یہ سن کر انہوں نے جواباً کہا:جہاں تک میری کنیت کا تعلق ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری یہ کنیت رکھی ہے اور اب میں آپ سے ملاقات تک یعنی مرتے دم تک اس کنیت کو ترک نہیں کروں گا۔دوسری بات کہ میں نمر بن قاسط کی طرف انتساب کرتا ہوں تو میں چونکہ انہی لوگوں میں سے ہوں، تو ان کی طرف نسبت کیوں نہ کروں؟ البتہ حقیقت یہ ہے کہ میری رضاعت أیلہ میں ہوئی ہے، یہ لکنت اسی کا اثر ہے اور باقی رہا مال کو جمع رکھنے کی بجائے خرچ کر ڈالنا۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اسے ناحق خرچ کرتا ہوں؟ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11747]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي اضطراب في متنه، زيد بن اسلم لم يدرك عمر بن الخطاب، اخرجه الطبراني في الكبير: 7297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19150»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف علي اضطراب في متنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11748
عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ صُهَيْبًا كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَيَقُولُ إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا صُهَيْبُ مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَتَقُولُ إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ فَقَالَ صُهَيْبٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي النَّسَبِ فَأَنَا رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَوْصِلِ وَلَكِنِّي سُبِيتُ غُلَامًا صَغِيرًا قَدْ غَفَلْتُ أَهْلِي وَقَوْمِي وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي الطَّعَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ”خِيَارُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَرَدَّ السَّلَامَ“ فَذَلِكَ الَّذِي يَحْمِلُنِي عَلَى أَنْ أُطْعِمَ الطَّعَامَ
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یحییٰ تھی، نیز وہ خود کو عربوں کی طرف منسوب کیا کرتے تھے اور وہ لوگوں کو کثرت سے کھانا کھلایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: صہیب! آپ کی تو اولاد ہی نہیں، آپ نے ابو یحییٰ کنیت کیوں اختیار کی ہوئی ہے؟ اور آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اصلاً عرب ہیں اور آپ دوسروں کو کثرت سے کھانا کھلاتے ہیں،یہ تو مال کا ضیاع ہے؟ یہ سن کر سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی ہے، باقی رہا آپ کا میرے نسب کے متعلق اظہار خیال تو میں خاندانی طور پر اہل موصل کے رئیس نمر بن قاسط کے خاندان سے ہوں، البتہ میں چھوٹا بچہ تھا کہ مجھے قیدی بنا لیا گیا اور میں اپنے اہل اور قوم کو بھول بیٹھا، باقی رہا میرے کھانے کھلانے کے بارے میں آپ کی بات تو یاد رکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے، جو دوسروں کو کھانا کھلائے اور سلام کا جواب دے۔ یہی چیز مجھے آمادہ کرتی ہے کہ میں دوسروں کو کھانا کھلاؤں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11748]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل ولجھالة حمزه بن صھيب، علي اضطراب في متنه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24422»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل ولجھالة حمزه بن صھيب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں