🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْن خَبَّابِ بن الأرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11776
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ كَانَ مَعَ الْخَوَارِجِ ثُمَّ فَارَقَهُمْ قَالَ دَخَلُوا قَرْيَةً فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالُوا لَمْ تُرَعْ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رُعْتُمُونِي قَالُوا أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُنَاهُ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِتْنَةً الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي قَالَ فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَاكَ فَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ قَالَ أَيُّوبُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ قَالُوا أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِيكَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَدَّمُوهُ عَلَى ضَفَّةِ النَّهْرِ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ فَسَالَ دَمُهُ كَأَنَّهُ شِرَاكُ نَعْلٍ مَا ابْذَقَرَّ وَبَقَرُوا أُمَّ وَلَدِهِ عَمَّا فِي بَطْنِهَا
حمید بن ہلال سے روایت ہے، وہ قبیلہ عبد القیس کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، جو شروع میں خوارج کے ساتھ تھا، پھر ان سے الگ ہو گیا تھا، اس سے مروی ہے کہ خوارج ایک بستی میں داخل ہوئے، سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے خوف زدہ سے ہو کر اس بستی سے باہر نکل گئے۔ خوارج نے ان سے کہا: آپ پریشان نہ ہوں، آپ گھبرائیں نہیں، آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ خوارج نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی خباب رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، خوارج نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہو، جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہوں، براہ کرم آپ ہمیں وہ حدیث تو بیان کر دیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے اپنے والد کو سنا، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا کہ اس فتنہ کے دوران کھڑے آدمی کی بہ نسبت بیٹھا رہنے والا اور چلنے والے کی نسبت کھڑا رہنے والا اور فتنہ میں دوڑنے والے کی بہ نسبت عام رفتار سے چلنے والابہتر ہوگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا اس قسم کے حالات سے سامنا ہو تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔ حدیث کے راوی حمید کے شاگرد ایوب نے کہا: مجھے یقین ہے کہ حمید بن ہلال نے اس سے آگے یہ بھی بیان کیا کہ تم اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ خوارج نے پوچھا:کیا آپ نے یہ حدیث برا ہ راست اپنے والد سے سنی ہے کہ وہ اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل، عبدالقیس کا ایک فرد بیان کرتا ہے کہ یہ حدیث سننے کے باوجود انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہر (دریا) کے کنارے لے جا کر ان کی گردن اڑا دی اور ان کا خون دریا کے پانی میں اس طرح چلا گویاکہ وہ جوتے کا تسمہ ہے، (یعنی وہ پانی کے اندر حل نہ ہوا اور دھاگے یا تسمے کی مانند پانی میں بہتا رہا۔) اور ان ظالموں نے ان کی ام ولد کا پیٹ بھی پھاڑ ڈالا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11776]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، والرجل المبھم الذي روي عنه حميد ان كان ثقة عنده فالاسناد صحيح، والله تعاليٰ اعلم، اخرجه الطبراني في الكبير: 3630، وابويعلي: 7215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21378»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11777
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَا ابْذَقَرَّ يَعْنِي لَمْ يَتَفَرَّقْ وَقَالَ لَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ وَكَذَلِكَ قَالَ بَهْزٌ أَيْضًا
حمید بن ہلال سے ان کے دوسرے شاگرد سلیمان نے بھی یہ حدیث ان سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ انہوں نے ما ابذعر کی بجائے ما ابذ قر کا لفظ بیان کیا، تاہم دونوں کامعنی و مفہوم ایک ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کا قاتل بندہ نہ بننا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11777]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21065»
وضاحت: فوائد: … سیدناعبد اللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو بعض حضرات نے تابعین میں شمار کیا ہے،لیکن صحابہ کے تذکروں پر مشتمل کتب الاصابہ وغیرہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تابعی نہیں بلکہ صحابی ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21065
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں