🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. البابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيُّ لَمْ يَتَخَلَّفْ قَبل وَفَاتِهِ
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12028
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ وَإِنَّكُمْ وُلَاتُهُ، وَلَنْ يَزَالَ فِيكُمْ حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ شَرَّ خَلْقِهِ، فَيَلْتَحِيكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ.“
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: یہ خلافت تمہارے پاس رہے گی اور تم ہی اس کے مالک ہو، یہ اس وقت تک تمہارے پاس رہے گی جب تک تم غیر شرعی کام نہیں کرو گے، جب تم نے غیر شرعی کام کیے تو اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو تمہارے خلاف کھڑا کر دے گا اور وہ تمہاری یوں چمڑی ادھیڑیں گے، جیسے چھڑی کو چھیل دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12028]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي وھم واختلاف فيه، أخرجه الطيالسي: 619، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17197»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف علي وھم واختلاف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12029
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالْهِجْرَةُ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ.“
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلافت قریش میں، عہدۂ قضا انصاریوں میں، دعوت و تبلیغ حبشیوں میں اور ہجرت مسلمانوں میں اور بعد والے مہاجروں میں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12029]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش، وان كان صدوقا حسن الحديث في روايته عن الشاميين، لايحتمل تفرده، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 298، والبخاري في الكبير: 4/ 338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17804»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں اغلبیت کا پہلو مد نظر رکھا گیا ہے کہ زیادہ تر مذکورہ عہدے مذکورہ قبائل میں ہی رہیں گے یا پھر اِن قبائل کی اعلی طبعی خوبیوں کو ملحوظِ خاطر رکھ کر ان کو یہ عہدے سونپے گئے۔ روایت سنداً کمزور ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12030
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ، مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ.“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دو آدمی بھی باقی رہیں گے، یہ خلافت قریش میں ہی رہے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12030]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6121»

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 1471
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12031
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ“
سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان، مسلم قریشیوں کے تابع ہیں اور کافر، کافر قریشیوں کے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12031]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3495، ومسلم: 1818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7304»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3495
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12032
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الْأَمْرِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا مَا لِخِيَارِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں،ـ جو لوگ قبل از اسلام اچھے تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اچھے ہیں، بشر طیکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کرلیں۔ اللہ کی قسم! اگر قریشی لوگوں کے مغرور ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتلا دیتا کہ ان میں سے اچھے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12032]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17052»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12033
عَنْ ذِي مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَسَيَعُودُ إِلَيْهِمْ“ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٍ وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ عَلَى الْإِسْتَوَاءِ
سیدنا ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریب یہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخری الفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12033]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه الطبراني في الكبير: 4227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16952»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔
حمیر یمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ل((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قیام نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲)
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔

الحكم على الحديث: اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں