الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. الْفَضْلُ الأَوَّلُ: فِي وُجُوبِ طَاعَةِ أُولِي الْأَمْرِ، وَعَدْمِ الْخُرُوجِ عَلَيْهِمْ
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12102
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: 2] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ“ قَالَ فَجَعَلَ يَتْلُو بِهَا وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ“ قَالَ قُلْتُ إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَنْطَلِقُ حَتَّى أَكُونَ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ قَالَ ”كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ إِلَى الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ قَالَ ”وَكَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ“ قَالَ قُلْتُ إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي قَالَ ”أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ“ قَالَ قُلْتُ أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ”تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} … جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اے ابو ذر! اگر سب لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ آیت ان سب کے لیے کافی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کو پڑھتے اور میرے سامنے بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! اگر تمہیں مدینہ سے نکال دیا گیا، تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں کسی ایسے علاقے میں چلا جاؤں گا، جہاں وسعت اور فراخی ہوگی، میں مکہ جا کر اس کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو پھر کیا کرو گے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وسعت وفراخی والی جگہ شام کی طرف چلا جاؤں گا کہ وہ مقدس سرزمین ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو تب کیاکروگے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! تب میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: کیا کوئی کام اس سے بھی بہتر ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حاکم کی بات سننا اور اس کو مان لینا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12102]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان ابا السليل لم يدرك ابا ذر، اخرجه ابن ماجه: 4220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21884»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْء ٍ قَدْرًا } … اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔ (سورۂ طلاق: ۱،۲) یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن یہ آیت اپنے مضمون میں پراثر اور واضح نظر آ رہی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 12103
عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ وُلَاةٍ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”كَيْفَ أَنْتَ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي“) ”يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْكَ بِهَذَا الْفَيْءِ“ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْحَقَكَ قَالَ ”أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ لَكَ مِنْ ذَلِكَ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! جب ایسے حکمران آجائیں جو مال کے بارے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ اور پھر اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دوں گا، یہاں تک کہ آپ سے آ ملوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتلادوں؟ وہ یہ ہے کہ تم ان حالات پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھے آملو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12103]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة خالد بن وھبان، اخرجه ابوداود: 4759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21891»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة خالد بن وھبان
حدیث نمبر: 12104
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ“ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ”مَا لَمْ يَأْمُرُوكَ بِإِثْمٍ بَوَاحٍ“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشکل ہویا آسانی،خوشی ہو یا غمی اور خواہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، تم پر لازم ہے کہ تم حکمران کی بات سنو اور اس کو تسلیم کرو اور حکومت کے بارے میں حکومت والوں سے جھگڑا نہ کرواور تم ان کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہیں صریح گناہ کا حکم نہ دیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12104]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7055، 7056، ومسلم: ص 1470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23115»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غمی، حق تلفی ہو یا حق کی ادائیگی، ہر حال میں حکمران کی بات سننے اور اس کو تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہاں جب حکمران صریح گناہ کا حکم دیں گے تو تب ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7055
حدیث نمبر: 12105
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا ناخوشی اور بیشک تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، پھر بھی تم نے حکمران کی بات سننی ہے اور اس کو ماننا ہے۔ ‘ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12105]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1836، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8940»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1836
حدیث نمبر: 12106
عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ وَهُوَ يَقُولُ ”وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ إِنِّي لَأَرَى لَهُ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ
سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفات میں خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کسی غلام کو حکمران بنا دیاجائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا مجبوری، ہر حال میں حکمران کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12106]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27812»
وضاحت: فوائد: … اگر حکمران قرآن و حدیث کی روشنی میں رعایا کی حکمرانی کر رہا ہو تو پھر تو کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ اس کی بات مانی جائے، اگرچہ وہ ناقص الخلقت اور ادھورا ہو، مال و دولت سے محروم ہو اور حسن و جمال سے خالی ہو۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1838
حدیث نمبر: 12107
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَيْهِ بُرْدٌ لَهُ قَدِ الْتَفَعَ بِهِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ قَالَتْ فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى عَضَلَةِ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
(دوسری سند) سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک چادر تھی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغل کے نیچے سے نکال کر لپیٹا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازو کا پٹھہ حرکت کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! اللہ سے ڈر جاؤ، اور اگرچہ تم پر کوئی ناک کٹا حبشی غلام امیر بنا دیا جائے، تم نے اس کی بات سننی ہے اور اس کی اطاعت کرنی ہے، جب تک وہ تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کو قائم کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12107]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27802»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27802
حدیث نمبر: 12108
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمُ الْقُلُوبُ وَتَلِينُ لَهُمُ الْجُلُودُ ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمُ الْقُلُوبُ وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمُ الْجُلُودُ“ فَقَالَ رَجُلٌ أَنُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوں گے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12108]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 1300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11242»
وضاحت: فوائد: … خیر و بھلائی والے خلفاء اور حکمرانوں کے بعد شرّ والوں نے حکمرانی کے ایسے انداز اختیار کیے کہ ان کی تاریخ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12109
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ ”لَا مَا صَلَّوْا لَكُمُ الْخَمْسَ“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی)،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، (وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12109]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27063»
وضاحت: فوائد: … جس نے ایسے حکمرانوں کی اداؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، وہ منافقت، حق پوشی اور چاپلوسی کرنے سے بچ جائے گا، جو حسبِ استطاعت خاموش ہو گیا، موافقت کی نہ مخالفت، تووہ کم از کم ان کے وبال میں شریک نہیں ہوگا، لیکن جو ان کے ساتھ راضی ہو گیا تو وہ تو ان کی سرکشی، بغاوت اور نافرمانی میں برابر کا شریک ہو گا۔ شاید یہ بات درست ہو کہ موجودہ دور کے تمام حکمران اور ان کے درباری اس قسم کی تمام احادیث کے مصداق ہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1854
حدیث نمبر: 12110
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہارے اوپر کوئی ایسا حبشی حکمران بنا دیا جائے، جس کا سر منقّی جیسا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12110]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 693، 7142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12150»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 693
حدیث نمبر: 12111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ“ وَقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي قَوْلَهُ ”اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے(تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12111]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3604، ومسلم: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7992»
وضاحت: فوائد: … یہ دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کے مصداق الگ الگ حکمران ہیں، ایسے حکمران بھی گزر چکے ہیں کہ ہر حال میں جن کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ضروری تھا، لیکن ایسے حکمران بھی ہو گزرے ہیں کہ جن سے اجتناب کرنا بہتر تھا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3604