الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. الْفَضْلُ الأَوَّلُ: فِي وُجُوبِ طَاعَةِ أُولِي الْأَمْرِ ، وَعَدْمِ الْخُرُوجِ عَلَيْهِمْ
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ“ وَقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي قَوْلَهُ ”اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے(تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12111]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3604، ومسلم: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7992»
وضاحت: فوائد: … یہ دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کے مصداق الگ الگ حکمران ہیں، ایسے حکمران بھی گزر چکے ہیں کہ ہر حال میں جن کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ضروری تھا، لیکن ایسے حکمران بھی ہو گزرے ہیں کہ جن سے اجتناب کرنا بہتر تھا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3604
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12111 in Urdu