🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. الْفَضْلُ الثَّانِي فِيمَا خَصَّهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي السر
فصل دوم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12249
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَقَالَتْ لِي إِنَّ هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ قُلْتُهُ أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ قُلْتُهُ تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَأَفَاقَ فَقَالَ ”افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ“ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ”افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ“ فَقُلْتُ لَكِ أَبِي أَوْ أَبُوكِ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَفَتَحْنَا الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمَّا أَنْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”ادْنُهْ“ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ”أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ“ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”ادْنُهْ“ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ”أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ“ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”ادْنُهْ“ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ”أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ“ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَيَّ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ لَهُ ”اخْرُجْ“ قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ أَوْ قَالَتْ اللَّهُمَّ صِدْقٌ
ابو عبد اللہ جسری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہا ں گیا، ان کے ہاں سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں اور کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اگر میں جھوٹ کہوں تو آپ نے میری تصدیق نہیں کرنی اور اگر میں سچ کہوں تو آپ نے میری تکذیب نہیں کرنی، کیا آپ جانتی ہیں کہ میں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی اور بے ہوشی طاری ہوگئی، میں نے تم سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز تو نہیں کر گئی؟ تم نے کہا تھا: مجھے تو اس بارے کوئی علم نہیں ہے، اتنے میں کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ افاقہ ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو۔ پھر آپ پر غشی طاری ہوگئی، میں نے تم سے کہا: دیکھیں، کہیں آپ کی روح تو پرواز نہیں کر گئی؟ تم نے کہا تھا: مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ میرے والد مراد ہیں یا تمہارے والد؟ تم نے کہا تھا: میں نہیں جانتی۔ پھر ہم نے دروازہ کھول دیا تو کیا دیکھا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: قریب ہوجاؤ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آپ کے اوپر جھک گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ راز دارانہ بات کی، میں اور تم نہیں جانتی تھیں کہ وہ کیا بات تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اوپر اٹھالیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو کچھ کہا ہے، تم نے سمجھ لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: پھر قریب ہو جاؤ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر اسی طرح جھک گئے، جیسے پہلی دفعہ کیاتھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ چپکے سے کوئی بات کی، جس کے متعلق ہم نہیں جانتی کہ وہ کیا بات تھی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو بات کہی ہے، تونے اچھی طرح سمجھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پہلے سے بھی زیادہ جھک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر رازداری اور چپکے سے ان کے ساتھ کوئی بات کی، اس کے بعد انہوں نے اپنا سر اٹھالیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو کچھ کہاہے، کیاتم نے خوب سمجھ لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے سمجھ لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: باہرچلے جاؤ۔ یہ سب کچھ سن کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں، یہ سب کچھ سچ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12249]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26799»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12250
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ادْعُوا لِي بَعْضَ أَصْحَابِي“ قُلْتُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ عُمَرُ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ قَالَ ”لَا“ قَالَتْ قُلْتُ عُثْمَانُ قَالَ ”نَعَمْ“ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ تَنَحَّى جَعَلَ يُسَارُّهُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ فِيهَا قُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُقَاتِلُ قَالَ لَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَإِنِّي صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ایک صحابی کو بلاؤ۔ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ کے چچا زاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ذرا ایک طرف ہوجاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ چپکے سے باتیں کرنا شروع کیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ فق ہونے لگا، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں محصور کر دیا گیا تو ہم نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ان باغیوں کے ساتھ لڑتے کیوں نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، میں لڑائی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اس بات کا عہد لیا تھا اور میں ان حالات پر اپنے آپ کو صابر ثابت کرنے والا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12250]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24757»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان احادیث کی روشنی میں اپنی مظلومانہ شہادت قبول کر لی اور امن والے شہر مدینہ منورہ میں انتقامی کاروائی کرنا گوارہ نہیں کیا۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں