الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. الفضل الثاني فيما خصه به رسول الله صلى الله عليه وسلم فى السر
فصل دوم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
حدیث نمبر: 12250
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ادْعُوا لِي بَعْضَ أَصْحَابِي“ قُلْتُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ عُمَرُ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ قَالَ ”لَا“ قَالَتْ قُلْتُ عُثْمَانُ قَالَ ”نَعَمْ“ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ تَنَحَّى جَعَلَ يُسَارُّهُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ فِيهَا قُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُقَاتِلُ قَالَ لَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَإِنِّي صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ایک صحابی کو بلاؤ۔ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ کے چچا زاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ذرا ایک طرف ہوجاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ چپکے سے باتیں کرنا شروع کیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ فق ہونے لگا، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں محصور کر دیا گیا تو ہم نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ان باغیوں کے ساتھ لڑتے کیوں نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، میں لڑائی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اس بات کا عہد لیا تھا اور میں ان حالات پر اپنے آپ کو صابر ثابت کرنے والا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12250]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24757»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان احادیث کی روشنی میں اپنی مظلومانہ شہادت قبول کر لی اور امن والے شہر مدینہ منورہ میں انتقامی کاروائی کرنا گوارہ نہیں کیا۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12250 in Urdu