🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِشَارَةِ النَّبِي ﷺ إِنِّي ذُلِكَ
باب اول: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12286
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا أَوْ أَشْرَفَ عَلَى أَكَمَةٍ أَوْ هَبَطَ وَادِيًا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ قُلْتَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهَلْ عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنَّا وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَتَلُوهُ فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا وَفِعْلًا مِنِّي ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا
قیس بن عباد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں سفر کر رہے تھے، وہ جب کسی جگہ پہنچتے یا کسی ٹیلے پر چڑھتے یا کسی وادی میں اترتے تو یوں کہتے:سُبْحَانَ اللّٰہِ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ۔ (اللہ ہر نقص سے پاک ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے)۔میں نے بنی یشکر کے ایک فرد سے کہا: آؤ امیر المومنین کی خدمت میں چلتے ہیں، تاکہ ان سے اس قول کی بابت دریافت کریں، پس ہم ان کی خدمت میں گئے اور کہا: امیر المومنین! ہم نے دیکھا ہے کہ جب آپ کسی جگہ پہنچے یا کسی وادی میں اترے یا کسی ٹیلے پر چڑھے تو آپ نے یہ کلمات کہے: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ۔ (اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے)۔ کیا اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص ہدایت فرمائی ہے، پس انہوں نے ہم سے اعراض کیا، لیکن جب ہم نے اصرار کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ عام لوگوں سے فرمایا ہے، مجھے بھی وہی حکم دیا ہے، لیکن لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہوگئے اور انہیں شہید کر ڈالا، میرے سوا دوسرے لوگوں کا حال اور فعل بہت برا تھا، سو میں نے دیکھا کہ دوسروں کی بہ نسبت میں اس خلافت کا زیادہ حق دار ہوں تو میں اس کی طرف لپک آیا، اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم نے صحیح کیا یا غلط کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12286]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1207»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12287
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ”أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے بعد ہر مومن کے ساتھی اور دوست ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12287]
تخریج الحدیث: «وھو حديث طويل، و اسناده ضعيف بھذه السياقة، ابو بلج يحيي بن سليم يقبل حديثه فيما لا ينفرد به، اخرجه الحاكم: 3/ 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3062»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12288
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَحْدَثَ شَيْئًا فِي سَفَرِهِ فَتَعَاهَدَ قَالَ عَفَّانُ فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرُوا أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِمْرَانُ وَكُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ قَالَ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّابِعِ وَقَدْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَقَالَ ”دَعُوا عَلِيًّا دَعُوا عَلِيًّا إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر فرمایا،دوران سفر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسا کام ہوا کہ چار صحابہ نے مل کر پکا عزم کیا کہ وہ ان کی اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کریں گے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارا معمول تھا کہ جب ہم سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے، آپ کو سلام کہتے۔ پس وہ کہتے ہیں: وہ چاروں آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے، ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا، پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی کہا کہ اے اللہ کے رسول! علی نے یوں یوں کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منہ موڑ لیا، پھر تیسرا آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا س سے بھی اپنا رخ پھیر لیا، اتنے میں چوتھا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوتھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوچکا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو چھوڑ دو، علی کو چھوڑدو، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میرے بعد وہ ہر مومن کا دوست اور ساتھی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12288]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي فيه كلام وكان يتشيع، اخرجه الترمذي: 3712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20170»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12289
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ”فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي وَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: پس بیشک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، میرے بعد وہ تم کا دوست اور ساتھی ہے، وہ مجھ سے ہے اور میں ا س سے ہوں اور وہ میرے بعد تم سب کا دوست ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12289]
تخریج الحدیث: «ھو حديث طويل، واسناده ضعيف بھذه السياقة، اجلح الكندي ضعيف، اخرجه البزار: 2563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23400»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12290
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا ”سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ“ قَالَ فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ“
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: علی کے دروازے کے سوا باقی سب دروازے بند کردو۔ لوگوں نے اس بارے میں باتیں کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناکی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! میں نے حکم دیا ہے کہ یہ تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سواے علی کے دروازے کے، تم میں سے بعض باتیں بنانے والوں نے کچھ باتیں بنائی ہیں، اللہ کی قسم! میں نے خود کسی چیز کو نہ بند کیا ہے اور نہ کھولا ہے، مجھے تو بس جو حکم ملا ہے، میں نے اسی کی ابتاع کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12290]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه منكر، ميمون البصري الكندي ضعّفه ابن المديني ويحيي القطان وان معين وابوداود، اخرجه الحاكم: 3/ 125، والنسائي في الكبري: 8423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19502»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں