🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. الْفَصْلُ الثَّانِي وَفِيهِ أَحَادِيثُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12292
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَشْكُوا عَلِيًّا فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَخْشَنُ فِي ذَاتِ اللَّهِ أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“
سیدنا ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں شکایتیں کیں، سو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! تم علی کے شکوے مت کیا کرو، وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت سخت ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12292]
تخریج الحدیث: «زينب بنت كعب مختلف في صحبتھا، روي عنھا ابنا اخويھا، وزكرھا ابن حبان في الثقات، واخرج لھا اصحاب السنن، اخرجه الحاكم: 1/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11839»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّنِي عَيْنَيْهِ يَقُولُ حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ ”يَا عَمْرُو وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي“ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُوذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلَى مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي“
سیدنا عمر و بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ، جو کہ اصحابِ حدیبیہ میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں یمن کی جانب گیا، دوران سفر انہوں نے میرے ساتھ کچھ سختی کی، اس سے مجھے دل میں بہت کوفت ہوئی، جب میں واپس آیا تو میں نے اعلانیہ مسجد میں ان کا شکوہ کردیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی، میں ایک دن صبح کے وقت مسجد میں داخل ہو ا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظریں مجھ پر گاڑھ دیں، پھر میں بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! اللہ کی قسم! تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کو ایذا پہنچاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جس نے علی کو ایذا دی، اس نے درحقیقت مجھے تکلیف پہنچائی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12293]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الفضل بن معقل ليس بمشھور، وترجم له البخاري وابن ابي حاتم ولم يذكرا فيه جرحا ولاتعديلا، اخرجه الحاكم: 3/122، والبزار: 2561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16056»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12294
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ“ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ”لَا يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“
سیدنا یحییٰ بن آدم سلولی رضی اللہ عنہ، جو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرتھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میری طرف سے ادائیگی یا تو میں خود کروں گا، یا علی کرے گا۔ ابن ابی بکیر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: میرا قرضہ میں خود ادا کروں گا یا میری طرف سے علی ادا کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12294]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه منكر، ابو اسحاق السبيعي شھر بالتدليس اضافة الي انه قد تغير بأخرة، وسماعه من حبشي بن جنادة لا يثبت من طريق صحيحة، اخرجه الترمذي: 3719، وابن ماجه: 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17645»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12295
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ ”لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کوئی مومن تجھ سے بغض نہیں رکھ سکتا اور کوئی منافق تجھ سے محبت نہیں کر سکتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12295]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27040»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان اور نفاق کے لیے معیار ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12296
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي“
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تمہارے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی پناہ، یا کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا، (یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جائے) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے علی کو برا بھلا کہا، اس نے یقینا مجھے برا بھلا کہا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12296]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 3/ 121، والطبراني في الكبير: 23/737، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27284»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12297
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ مِمَّا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ وَلَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے خصوصی طور پر جو باتیں بیان کی، ان میں سے ایک یہ تھی: مجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا اور مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12297]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 78، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 642»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12298
عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَالَ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ ”مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي“ فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمِّهِ شَرِيكٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا قَالَ ثُمَّ قَالَ لِآخَرَ قَالَ فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ} … اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ نازل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے لوگوں کو جمع کیا، تیس آدمی جمع ہو گئے، انہوں نے کھایا پیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے کون ہے، جو میرے قرض کی ادائیگی اور میرے وعدوں کو پورا کرنے کی ضمانت دے گا، اس کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور میرے اہل میں میرا خلیفہ ہوگا؟ ایک آدمی نے جواباً کہا: اللہ کے رسول! آپ تو سمندر ہیں، کون ان ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی اور کو بھی یہ بات کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی بات جب اپنے اہل بیت پر پیش کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12298]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 883»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12299
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ وَقَالَ مَرَّةً أَسْلَمَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا ان کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12299]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، ابو بلج يحيي بن سليم يقبل حديثه فيما لا ينفرد به، اخرجه الترمذي: 3734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3542»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12300
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَوَلَدَتْ لَهُ وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے افضل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین ایسی خصوصیات نصیب ہوئی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے کوئی ایک مل جاتی تووہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کی ان سے شادی کی،ان سے ان کی اولاد ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دروازے کے علاوہ مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر وادئیے اور خیبر کے روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12300]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ھشام بن سعد ضعّفوه، يكتب حديثه للمتابعات، ولا يحتج به، اخرجه ابويعلي: 5601، وابن ابي شيبة: 12/ 9، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4797»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12301
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الرَّقِيمِ الْكِنَانِيِّ قَالَ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْجَمَلِ فَلَقِينَا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بِهَا فَقَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الشَّارِعَةِ فِي الْمَسْجِدِ وَتَرْكِ بَابِ عَلِيٍّ
عبد اللہ بن رقیم کنانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جنگ جمل کے دنوں میں ہم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں، البتہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12301]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن الرقيم، وعبدُ الله بن شريك مختلف فيه، أخرجه النسائي في الخصائص: 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1511»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں