🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي قُدُومٍ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَصْرَةِ واسْتَنْفَارِ أَهْلِهَا لِمَوْقِعَةِ الْجَمَل
فصل دوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12337
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ إِنَّ عَلِيًّا بَعَثَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ مَا خَلَّفَكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ ابْنُ عَمِّكَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفًا فَقَالَ ”قَاتِلْ بِهِ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ فَإِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَاعْمَدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَاضْرِبْهُ بِهَا ثُمَّ الْزَمْ بَيْتَكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ“ قَالَ خَلُّوا عَنْهُ
حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کو بلوایا، جب ان کو لایا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم اس لڑائی سے پیچھے کیوں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے چچا زاد یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک تلوار عنایت کی تھی اور فرمایا تھا: جب تک دشمنان اسلام کے ساتھ قتال ہوتا رہے تو تم اس تلوار کے ذریعے قتال کرتے رہنا اور جب تم دیکھو کہ لوگ یعنی مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی خون ریزی کر رہے ہیں تو تم اسے پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور پھر اپنے گھر کے اند رہی رہنا تاآنکہ تمہیں موت آجائے یا کوئی ظالم ہاتھ تمہارے اوپر آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12337]
تخریج الحدیث: «حسن بمجموع طرقه، اخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 523، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18142»

الحكم على الحديث: حسن بمجموع طرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12338
عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ أَرَأَيْتَ مَسِيرَكَ هَذَا عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيًا رَأَيْتَهُ قَالَ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا قُلْتُ دِينَنَا دِينَنَا قَالَ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَلَكِنْ رَأْيًا رَأَيْتُهُ
قیس بن عبادسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سید نا علی رضی اللہ عنہ سے گزارش کی کہ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں، اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کوئی حکم ہوا تھا یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا؟ میں نے کہا:ہمارا دین ہے، یہ ہمارے دین کی بات ہے، یہ ایسی ویسی چیز نہیں ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ نہیں فرمایا، بس یہ میری اپنی رائے ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12338]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 4666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1271»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں