🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي بَعْثِ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَن رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا لِاسْتِنْفَارِ أَهْلِ الْكُوفَةِ
فصل سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12339
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَاهُمْ فَخَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا
ابو وائل سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ لوگوں کو لڑائی کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا و آخرت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس موقع پر آزمایا ہے کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12339]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3772، 7101، 7100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18521»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 3772
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12340
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ قَالَ حَجَّاجٌ أَرَأَيْتَ هَذَا الْأَمْرَ يَعْنِي قِتَالَهُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ فِي أُمَّتِي قَالَ شُعْبَةُ وَيَحْسِبُهُ قَالَ حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ إِنَّ فِي أُمَّتِي اثْنَيْ عَشَرَ مُنَافِقًا“ فَقَالَ ”لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ“
قیس بن عباد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے گزارش کی کہ آپ اپنی اس لڑائی کے متعلق ذرا یہ واضح کریں کہ آیا یہ آپ کی اپنی رائے اور ذاتی موقف ہے،کیونکہ ایسی رائے تو غلط بھی ہوسکتی ہے اور درست بھی، یا یہ تم لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کوئی حکم دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں الگ سے ایسا کوئی حکم نہیں دیا جو عام لوگوں کے لیے نہ ہو،نیز انہوں نے کہا: البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میری امت میں بارہ منافق ہوں گے، و ہ جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے اور نہ وہ جنت کی خوشبو پائیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں داخل ہو جائے، ان میں سے آٹھ کو ایک پھوڑا کافی ہوگا، یہ آگ کے شعلہ کی مانند ہوگا، جو ان کے کندھوں پر ابھرے گا اور ان کے سینوں پر جا کر ظاہر ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12340]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19091»

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12341
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ“
۔ (دوسری سند) قیس کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں جو کچھ کہہ رہے ہو، ذرا اس کے متعلق یہ تو بتلاؤ کہ یہ تمہاری اپنی رائے ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں اس بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں الگ سے کوئی ایسا حکم نہیں دیا، جو عام لوگوں کو نہ دیا ہو، البتہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہوں گے، ان میں آٹھ جنت میں ہرگز نہیں جاسکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں سے گزر جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12341]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23708»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23708
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12342
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ قَالَ لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ فَقُلْتُ أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ قَالَ قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ
مخارق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، اس طرح تمہارے ساتھ رہوں گا، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کیا کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12342]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه ابويعلي: 1641، والبزار: 1429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18506»
وضاحت: فوائد: … اس طرح کرنے سے مجاہد دلیری سے لڑتا ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ دو گروہوں میں بٹ گئی، ایک گروہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حامی تھا، جو کہ خلیفۂ برحق تھا اور دوسرا گروہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان کے اختلاف کی بنیاد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لینا تھا، جبکہ ان قاتلین نے اپنے آپ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں ظاہر کر رکھا تھا۔
ذہن نشین رہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نظریہ یہ تھا کہ علی الفور قاتلین ِ عثمان سے قصاص لیا جائے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس معاملے میں کچھ تاخیر کے قائل تھے اور حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف اقرب الی الصواب تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ادائیگیٔ حج کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس آنے کی بجائے عراق کا رخ کر لیا، تاکہ قاتلینِ عثمان سے قصاص لیا جا سکے۔
قصاص کی بنیاد پر وجود پانے والی ان آویزشوں کا انجام امت مسلمہ کی باہمی لڑائیوں کی صورت میں ظاہر ہوا، اس سلسلہ کی ایک کڑی جنگ جمل ہے۔
اردو خوان طبقہ تفصیل کے لیے تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی اور خلفائے راشدین از شاہ معین الدین ندوی کا مراجعہ کریں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں