الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي رُؤْيَا ابْنِ عَبَّاسِ وَ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ
فصل سوم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خواب
حدیث نمبر: 12423
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ قَائِمٌ أَشْعَثُ أَغْبَرُ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ ”هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ“ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج جمع کر رہا ہوں۔ ہم نے اس دن کا حساب لگایا تو وہ وہی دن تھا، جس دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12423]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الطبراني: 2822، والحاكم: 4/ 397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2553»
الحكم على الحديث: صحیح