🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

98. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَا فَعَلَهُ ابْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِهِ
فصل دوم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12422
عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ عَلَيْهِ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سرلایاگیا، وہ ایک تھال میں رکھا ہوا تھا، تو وہ اپنی لاٹھی سے مارنے لگا اور اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ بھی کہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، ان کے بال وسمہ سے رنگین تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12422]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13784»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: اکثر اہل علم کے قول کے مطابق سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شعبان سن ۴ ہجری میں پیدا ہوئے اور یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہو گئے، حقیقت ِ حال یہ تھی کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور ان کے بعد یزید مسند خلافت پر متمکن ہوا تو اہل کوفہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت کی کہ وہ تو ان کی اطاعت کریں گے، نہ کہ یزید کی، پس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کوفہ والوں کی طرف روانہ ہو گئے، لیکن ان سے پہلے عبید اللہ بن زیاد کوفہ پہنچ گیا اور اس نے اکثر لوگوں کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے دور کر دیا، بعض لوگ رغبت کی وجہ سے اور بعض ڈر کی وجہ سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ گئے اور ابن زیاد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے چچا زاد سیدنا مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو بھی قتل کر دیا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بیعت لینے کے لیے ان کو بھیجا تھا، پھر ابن زیاد نے ایک لشکر تیار کیا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے جنگ شروع کر دی، یہاں تک کہ نواسۂ رسول اور ان کے اہل بیت کے کافی افراد شہید ہو گئے، یہ ایک مشہور واقعہ ہے، ہم اس کی طوالت میں نہیں پڑنا چاہتے۔ (فتح الباری: ۷/ ۹۶)
یہ ایک سیاہ دھبہ ہے، جس نے امت ِ مسلمہ کی تاریخ کو سیاہ کر دیا، خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ظلم کا لقمہ بن گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں