الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. الْبَابُ السَّادِسُ فِي بَعْثِهِ أَيْضًا إِلَى مَكَّةَ بَعْدَ قَتْلِ مُصْعَبِ بِالْعِرَاقِ لِقَتْلِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ فَقَتَلَهُ بِهَا وَلَمْ يُرَاعِ حُرْمَةَ الْبَيْتِ
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
حدیث نمبر: 12455
عَنْ أَبِي الصَّدَّيقِ النَّاجِيِّ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ دَخَلَ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ مَا قُتِلَ ابْنُهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَكِ أَلْحَدَ فِي هَذَا الْبَيْتِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَذَاقَهُ مِنْ عَذَابِ أَلِيمٍ وَفَعَلَ بِهِ مَا فَعَلَ فَقَالَتْ كَذَبْتَ كَانَ بَرًّا بِالْوَالِدَيْنِ صَوَّامًا وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ الْآخِرُ مِنْهُمَا شَرُّ مِنَ الْأَوَّلِ وَهُوَ مُبِيرٌ“
ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حجاج بن یوسف جب سیدنا عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کر چکا تو اس کے بعد ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور کہنے لگا: تمہارے بیٹے نے بیت اللہ کے اندر الحاد کیا تھا،سو اللہ تعالیٰ نے اسے درد ناک عذاب سے دو چار کیا اور اس کے ساتھ بہت کچھ کیا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، وہ تو اپنے والدین کا انتہائی خدمت گزارتھا، وہ دن کو بہت زیادہ روز ے رکھنے والا اور رات کو بہت زیادہ قیام کرنے والا تھا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اطلاع دے چکے ہیں کہ عنقریب قبیلہ ثقیف میں سے دو جھوٹے آدمی ظاہر ہوں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی برا ہوگا اوروہ بہت ہی خون ریزہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12455]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، لكن المحفوظ في متنه: يكون في ثقيف كذاب و مبير، اخرجه مسلم: 2545، والحديث المرفوع فيه بلفظ: أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:ٰ 26967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27507»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12456
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَصَلَبَهُ مَنْكُوسًا فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ جَاءَتْ أَسْمَاءُ وَمَعَهَا أَمَةٌ تَقُودُهَا وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا فَقَالَتْ أَيْنَ أَمِيرُكُمْ فَذَكَرَ قِصَّةً فَقَالَتْ كَذَبْتَ وَلَكِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ الْآخِرُ مِنْهُمَا أَشَرُّ مِنَ الْأَوَّلِ وَهُوَ مُبِيرٌ“
عنترہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور انہیں الٹا کر کے لٹکا دیا، تو وہ اس دوران منبر پر تھاکہ اچانک سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا آ گئیں، ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی، ایک لونڈی ان کاہاتھ پکڑے ان کو لائی، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! تمہارا امیر کہاں ہے؟ اس کے بعدعنترہ نے مفصل واقعہ بیان ہے، اس کے آخر میں ہے:سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے حجاج سے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں دو جھوٹے آدمی نکلیں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی زیادہ شر والا ہوگا اور وہ بہت ہی خون ریز ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12456]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لكن بلفظ ان في ثقيف كذابا ومبيرا وھذا اسناد فيه ھارون بن عنترة، وفيه كلام، وقد انفرد بسياق ھذه القصة، فذكر ان ابن الزبير صلب منكوسا، وان اسماء ھي التي دخلت علي الحجاج، والصحيح ان ابن الزبير صلب، ولكن لم يتابعه احد علي قوله: منكوسا وان الحجاج ھو الذي دخل علي اسمائ، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27514»
الحكم على الحديث: مرفوعه صحيح لكن بلفظ ان في ثقيف كذابا ومبيرا وھذا اسناد فيه ھارون بن عنترة
حدیث نمبر: 12457
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ فِي ثَقِيفٍ مُبِيرًا وَكَذَّابًا“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاک کرنے والا یعنی خون ریز آدمی ہوگا اور ایک جھوٹا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12457]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 2220، 3944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4790»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی شرح کے لیے حدیث نمبر (۱۲۴۵۳)کے فوائد کا مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12458
عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
زبیر بن عدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے حجاج کے مظالم کا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے شکوہ کیا،انہوں نے کہا: صبر کرو، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم پر جو بھی دن اور سال آتا ہے، اس سے بعد والا دن اور سال پہلے سے بدتر ہوتا ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب عزوجل سے جا ملو گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12458]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12372»
وضاحت: فوائد: … فرمودۂ نبوی کے مطابق رضی اللہ عنہا آج بھی حکمرانوں کا یہی سلسلہ جاری ہے، ہر نئے حکمران کے کردار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے والا اس سے بہتر تھا، جبکہ لوگوں کی امیدیں نئے حکمران سے وابستہ ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 7068
حدیث نمبر: 12459
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا عَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَلَا الصَّلَاةَ فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ مَا صَنَعَ الْحَجَّاجُ فِي الصَّلَاةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ کر جو کچھ دیکھ چکا ہوں،آج مجھے ان میں سے کچھ بھی نظرنہیں آتا، ابورافع نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا نماز بھی ویسی نہیں رہی؟ انہوں نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ حجاج نے نماز کا بھی کیا حشر کر دیا ہے؟ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12459]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 2447، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13200»
الحكم على الحديث: حديث صحيح