الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. الْبَابُ السَّادِسُ فِي بَعْثِهِ أَيْضًا إِلَى مَكَّةَ بَعْدَ قَتْلِ مُصْعَبِ بِالْعِرَاقِ لِقَتْلِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ فَقَتَلَهُ بِهَا وَلَمْ يُرَاعِ حُرْمَةَ الْبَيْتِ
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
حدیث نمبر: 12458
عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
زبیر بن عدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے حجاج کے مظالم کا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے شکوہ کیا،انہوں نے کہا: صبر کرو، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم پر جو بھی دن اور سال آتا ہے، اس سے بعد والا دن اور سال پہلے سے بدتر ہوتا ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب عزوجل سے جا ملو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12458]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12372»
وضاحت: فوائد: … فرمودۂ نبوی کے مطابق رضی اللہ عنہا آج بھی حکمرانوں کا یہی سلسلہ جاری ہے، ہر نئے حکمران کے کردار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے والا اس سے بہتر تھا، جبکہ لوگوں کی امیدیں نئے حکمران سے وابستہ ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7068
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12458 in Urdu