🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. ابْتَدَاءُ الدَّوْلَةِ الْعَبَّاسِيَّةِ وَاخْبَارُ النَّبِيِّ ﷺ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس سے مطلع کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12465
عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ”انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ نَجْمٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”مَا تَرَى“ قَالَ قُلْتُ أَرَى الثُّرَيَّا قَالَ ”أَمَا إِنَّهُ يَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ اثْنَانِ فِي فِتْنَةٍ“
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم آسمان پر کوئی تارا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: میں ثریا تارے دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسل میں سے ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر دو آدمی ہر ایک فتنہ کے زمانہ میں اس امت پر حکمرانی کریں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12465]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد بن ابي فروة، قال البخاري: لايتابع في حديثه في قصة العباس، اخرجه الحاكم: 3/ 326، والبيھقي في الدلائل: 6/ 518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1786»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12466
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ وَظُهُورٍ مِنَ الْفِتَنِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السَّفَّاحُ فَيَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے ختم ہونے اور فتنوں کے ظہور کے وقت سفاح نامی ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ دونوں ہاتھ بھر بھر کر لوگوں میں مال و دولت تقسیم کرے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12466]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، اخرجه بنحوه ابن ابي شية: 15/ 196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11779»
وضاحت: فوائد: … یہ روایات تو ضعیف ہیں، البتہ سفاح سے مراد ابو العباس عبد اللہ بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم ہے، یہ سنہ ۱۰۴ ہجری میں بمقام حمیمہ علاقہ بلقاء میں پیدا ہوا، وہیں پرورش پائی، اپنے بھائی ابراہیم امام کا جانشین ہوا، اپنے بھائی منصور سے عمر میں چھوٹا تھا، یہ عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا۔
عبد اللہ سفاح خون ریزی، سخاوت، حاضر جوابی اور تیز فہمی میں ممتاز تھا، سفاح کے عمال بھی خون ریزی میںمشّاق تھے۔
ابو مسلم اور ابو جعفر کو روانہ کرنے کے بعد ابو العباس عبد اللہ سفاح چار برس اور آٹھ ماہ خلافت کر کے ۱۳ ذوالحجہ سنہ ۱۳۶ ہجری کو فوت ہوا۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تاریخ اسلام از محمد اکبر شاہ نجیب
! مستدرک حاکم اور بیہقی کی شعب الایمان میں صرف درج ذیل الفاظ ہیں: اِنَّہٗ یَمْلِکُ ہٰذِہِ الْاٗمَّۃَ بِعَدَدِھَا مِنْ صُلْبِکَ یعنی تیری اولاد میں سے ان ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر افراد اس امت پر حکم زنی کریں گے۔ مفہوم کے لحاظ سے یہ بات کافی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں