الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. ابْتَدَاءُ الدَّوْلَةِ الْعَبَّاسِيَّةِ وَاخْبَارُ النَّبِيِّ ﷺ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس سے مطلع کرنا
حدیث نمبر: 12465
عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ”انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ نَجْمٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”مَا تَرَى“ قَالَ قُلْتُ أَرَى الثُّرَيَّا قَالَ ”أَمَا إِنَّهُ يَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ اثْنَانِ فِي فِتْنَةٍ“
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم آسمان پر کوئی تارا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: میں ثریا تارے دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسل میں سے ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر دو آدمی ہر ایک فتنہ کے زمانہ میں اس امت پر حکمرانی کریں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 12465]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد بن ابي فروة، قال البخاري: لايتابع في حديثه في قصة العباس، اخرجه الحاكم: 3/ 326، والبيھقي في الدلائل: 6/ 518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1786»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12465 in Urdu