الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. الفَصْلُ الخَامِسُ فِي فَضْلِ مَا بَيْنَ قَبْرِهِ وَمِنْبَرِهِ وَفَضْلٍ مَوْضَعِ الْمِنْبَر
فصل پنجم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12688
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور منبرکے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12688]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7335، ومسلم: 1391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7222»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7335
حدیث نمبر: 12689
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا بَيْنَ مِنْبَرِي إِلَى حُجْرَتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے منبر اور میرے حجرے کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12689]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 1784، والبزار: 1196، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15255»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12690
عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ“، فَقُلْتُ لَهُ: مَا التُّرْعَةُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ؟ قَالَ: الْبَابُ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔ راوی نے کہا:: ابوالعباس! التُّرْعَۃ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: دروازہ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12690]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الطبراني في الكبير: 5779، والبيھقي: 5/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23229»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12691
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ منبرجنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12691]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه النسائي في الكبري: 4288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8706»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12692
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي مَعَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ! أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ، قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا.
یزید بن ابی عبیدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجدنبوی میں آیا کرتا تھا، وہ مصحف کے قریب والے ستون کے قریب نماز ادا کیا کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے قریب نماز ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ستون کے قریب نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12692]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 502، ومسلم: 509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16631»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 502
حدیث نمبر: 12693
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَلَمَةَ أَنَّهُ كَانَ يَتَحَرَّى مَوْضِعَ الْمُصْحَفِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى ذَلِكَ الْمَكَانَ، وَكَانَ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقِبْلَةِ مَمَرُّ شَاةٍ.
۔ (دوسری سند) سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہا مصحف کے قریب والی جگہ پر نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس مقام پر خصوصی التزام و اہتمام کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر اور قبلہ کے مابین ایک بکری کے گزرنے کی جگہ تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12693]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16657»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16657
حدیث نمبر: 12694
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”قَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ.“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے منبر کے پائے جنت میں گڑھے ہوئے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12694]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي: 2/ 35، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27009»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا تمام روایات کو سمجھنے کے لیے درج ذیل بحث پر غور کریں:
فضیلۃ الشیخ محمد عطاء اللہ بھوجیانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ممکن ہے کہ زمین کے جس حصے میں منبر پڑا تھا، وہ جنت سے منتقل کی گئی ہو، یا پھر اس منبر کو جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔ (التعلیقات السلفیۃ: ۱/۸۰)
درج ذیل حدیث پر غور کریں:
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ۔)) (بخاری: ۱۸۸۸) … میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان والا (زمین کا قطعہ) جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: علمائے کرام کے اقوال کا خلاصہ اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ
۱۔ زمین کا یہ حصہ نزولِ رحمت اور حصولِ سعادت کے اعتبار سے جنت کے باغیچے کی طرح ہے، بالخصوص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں۔
۲۔ اس حصے میں کی جانے والی عبادت جنت کا سبب بنتی ہے۔
۳۔ اس حدیث کا ظاہری مفہوم ہی مراد ہے کہ یہ قطعہ جنت کا حقیقی باغیچہ ہے اور اسے آخرت میں جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔
رہا مسئلہ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ کا تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر حوض پر نصب کیا جائے گا، اکثر علماء و فقہاء کی یہ رائے ہے کہ اس سے مراد وہی منبر ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کریہ ارشاد فرما رہے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ منبر ہے، جو قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رکھا جائے گا، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔ (فتح الباری: ۴/۱۲۵)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بُطْحَانُ عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) … وادیٔ بطحان جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچے پر ہے۔ (صحیحہ: ۷۶۹، دیلمی: ۲/ ۱/ ۱۶)
مذکورہ بالا احادیث کی توضیح سے اس حدیث کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس باب میں مندرج روایات سمیت اس قسم کے مبہم مفہوم پر مشتمل تمام احادیث کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ صحابہ کرام نے یہ فرمودات ِ نبوی سننے پر ہی اکتفا کیا، اور ان مقامات کی فضیلت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ جو مفہوم بادی النظر میں سمجھ آتا ہے، اسے تسلیم کر لیا جائے۔
بہرحال سلف صالحین کے چند اقوال نقل کر دیے گئے ہیں، تاکہ قارئین کی تشنگی ختم ہو سکے۔
فضیلۃ الشیخ محمد عطاء اللہ بھوجیانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ممکن ہے کہ زمین کے جس حصے میں منبر پڑا تھا، وہ جنت سے منتقل کی گئی ہو، یا پھر اس منبر کو جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔ (التعلیقات السلفیۃ: ۱/۸۰)
درج ذیل حدیث پر غور کریں:
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ۔)) (بخاری: ۱۸۸۸) … میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان والا (زمین کا قطعہ) جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: علمائے کرام کے اقوال کا خلاصہ اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ
۱۔ زمین کا یہ حصہ نزولِ رحمت اور حصولِ سعادت کے اعتبار سے جنت کے باغیچے کی طرح ہے، بالخصوص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں۔
۲۔ اس حصے میں کی جانے والی عبادت جنت کا سبب بنتی ہے۔
۳۔ اس حدیث کا ظاہری مفہوم ہی مراد ہے کہ یہ قطعہ جنت کا حقیقی باغیچہ ہے اور اسے آخرت میں جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔
رہا مسئلہ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ کا تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر حوض پر نصب کیا جائے گا، اکثر علماء و فقہاء کی یہ رائے ہے کہ اس سے مراد وہی منبر ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کریہ ارشاد فرما رہے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ منبر ہے، جو قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رکھا جائے گا، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔ (فتح الباری: ۴/۱۲۵)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بُطْحَانُ عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) … وادیٔ بطحان جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچے پر ہے۔ (صحیحہ: ۷۶۹، دیلمی: ۲/ ۱/ ۱۶)
مذکورہ بالا احادیث کی توضیح سے اس حدیث کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس باب میں مندرج روایات سمیت اس قسم کے مبہم مفہوم پر مشتمل تمام احادیث کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ صحابہ کرام نے یہ فرمودات ِ نبوی سننے پر ہی اکتفا کیا، اور ان مقامات کی فضیلت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ جو مفہوم بادی النظر میں سمجھ آتا ہے، اسے تسلیم کر لیا جائے۔
بہرحال سلف صالحین کے چند اقوال نقل کر دیے گئے ہیں، تاکہ قارئین کی تشنگی ختم ہو سکے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12695
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے قریب کوئی مرد یا عورت گناہ والی قسم اٹھائے، خواہ وہ ایک تازہ مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12695]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ماجه: 2326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10722»
وضاحت: فوائد: … زمان و مکاں کی وجہ سے نیکی کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور برائی کی قباحت بھی بڑھ جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح