🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. الْفَضْلُ الأولُ فِي فَضَائِلِ الشَّامِ مُطلَقًا
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونَ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ“ فَقَالَ رَجُلٌ فَخِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلَيْكَ بِالشَّامِ عَلَيْكَ بِالشَّامِ ثَلَاثًا عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ وَلْيَسْقِ مِنْ غُدُرِهِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ“
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اسلام کو اس قدر غلبہ حاصل ہو گا کہ اہل اسلام کے بہت سے لشکر ہوں گے، ایک لشکر شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہوگا۔ تو ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرمجھے یہ دور نصیب ہوتو میرے لیے کسی علاقہ کا انتخاب فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ملک شام میں رہنا، تم شام کو لازم پکڑنا، بس تم شام میں رہنا، جو اس علاقے کا انکار کرے تو وہ یمن میں چلا جائے اور وہاں کے جوہڑوں کا پانی پیے، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12717]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، اخرجه ابوداود: 2483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17130»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12718]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12719]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12720
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بَيْنَا أَنَا فِي مَنَامِي أَتَتْنِي الْمَلَائِكَةُ فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا فَالْإِيمَانُ حَيْثُ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ“
سیدنا عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس فرشتے آئے، میں نے خواب دیکھا کہ انہوں نے کتاب کا عمود میرے تکیے کے نیچے سے کھینچ لیا، پھر اس کو لے کر شام کی طرف کا قصد کیا، خبردار اصل ایمان شام کے اس علاقے میں ہو گا، جہاں فتنے بپا ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12720]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الطبراني في مسند الشاميين: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17928»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: معبرین اہل علم کا خیال یہ ہے کہ جو آدمی خواب میں عمود دیکھے گا، اس سے مراد دین یا قابل اعتماد شخص ہو گا، اس لیے انھوں نے عمود کی تعبیر دین اور سلطنت کی صورت میں کی ہے۔ (فتح الباری: ۱۲/ ۴۰۳)
عمود کے مختلف معانی ہیں، مثال کے طور پر: صبح کی کرن، سہارا، ستون، قابل اعتماد سردارِ قوم، آسمان میں چمکنے والا بگولا، موٹا بانس وغیرہ۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12721
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ کتاب کا عمود میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا، پھر میں نے گمان کیا کہ اسے لے جایا جا رہا ہے، میں نے اپنی نگاہ کو اس کے پیچھے لگائے رکھا، پس اس کو شام لے جایا گیا، خبردار! جب فتنے واقع ہوں گے تو اصل ایمان شام میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12721]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه البزار: 3332، والطبراني في الشاميين ‘: 449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22076»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12722
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ إِذْ قَالَ ”طُوبَى لِلشَّامِ“ قِيلَ وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا“
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے مختلف اشیاء پر مکتوب قرآن مجید جمع کر رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہے؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرشتوں نے اپنے پروں کو اس پر پھیلارکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12722]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21943»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12723
عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْمَشَّاءِ وَهُوَ لَقِيطُ بْنُ الْمَشَّاءِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَحَوَّلَ خِيَارُ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى الشَّامِ وَيَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى الْعِرَاقِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْمُثَنَّى يُقَالُ لَهُ لَقِيطٌ وَيَقُولُونَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَأَبُو الْمُثَنَّى
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی، جب تک کہ اہل عراق میں سے اچھے لوگ شام کی طرف اور شام کے بد ترین لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہوجائیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شام کے ملک میں سکونت اختیار کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12723]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو المشاء لقيط بن المشاء الباھلي، لم يرو عنه غير اثنين، وذكره ابن حبان في الثقات وقال: يخطيء ويخالف اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22497»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12724
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَيَمَنِنَا“ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ وَلَهَا تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شام اور یمن میں برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے مشرق کے حق میں بھی دعا ہو جائے، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہاں سے تو شیطان کے سینگ نمودار ہوں گے اور دنیا کے شر و فساد کے دس حصوں میں سے نو حصے وہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12724]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5642»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7094
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12725
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ“
سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل شام خرابیوں اور فساد میں مبتلا ہوگئے، تو تم مسلمانوں میں کوئی بھلائی نہ ہوگی اور میری امت میں سے ایک گروہ کی اللہ کی طرف سے ہمیشہ مدد کی جائے گی، ان سے اختلاف کرنے والے قیامت تک ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12725]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ماجه: 6، والترمذي: 2192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20632»
وضاحت: فوائد: … علاقہ شام مبارک علاقوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے علاوہ اسے اپنی ظاہری اور باطنی خیرات و برکات کا مرکز بنایا ہے، علاقے کی زرخیزی و شادابی تو واضح ہے اور باطنی طور پر یہ علاقہ انبیا کی سر زمین رہا ہے۔ لوگ بالعموم فطری طور پر خیر چاہنے والے اور دین حق کے پیروں ہیں، بالخصوص اب اردن اور لبنان کے عوام میں خیر پائی جاتی ہے۔ آخر میں عیسی کا نزول اسی علاقہ میں ہو گا۔ اسی وجہ سے اس علاقے کی طرف ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہمیں جو سیاسی اور غیر سیاسی فتنے نظر آتے ہیں، یہ سب وقتی ہیں اور ان سے کوئی علاقہ بھی خالی نہیں ہے، یہ ان شاء اللہ وقت آنے پر ختم ہو جائیں گے۔
ایک مثال یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمَلَاحِمِ اَرْضٌ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ۔)) … جنگوں اور فتنوں کے دنوں میں مسلمان ایک ایسی جگہ خیمہ زن ہوں گے، جسے غوطہ کہتے ہوں گے۔ (ابوداود: ۴۶۴۰)
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ فُْسَطَاطَ الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْمَلْحَمَۃِ بِالْغُوْطَۃِ، اِلٰی جَانِبِ مَدِیْنَۃٍ یُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ مِنْ خَیْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ۔)) … جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) دمشق نامی شہر کی جانب میں واقع مقام غوطہ ہو گا اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہو گا۔ (ابوداود: ۴۲۴۸)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12726
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ“
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر رہے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اہل شام ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12726]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطيالسي: 689، والبزار: 3319، والطبراني في الكبير: 4967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19505»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں