الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. الْبَابُ الأَوَّلُ وَمَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالْحِجَازِ
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 12712
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے اس حد تک نکال دوں گا اور یہاں صر ف مسلمانوں کو باقی چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12712]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 201»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1767
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12713]
حدیث نمبر: 12714
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَلِيُّ إِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ الْأَمْرَ بَعْدُ فَأَخْرِجْ أَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میرے بعد اگر تمہیں سر براہی ملے تو اہل نجران کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12714]
تخریج الحدیث: «تخريج اسناده ضعيف جدا، قيس بن الربيع الاسدي تغير باخرة واشعث بن سوار ضعيف، اخرجه عبدالررزاق: 9994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 661»
الحكم على الحديث:
تخريج اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 12715
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ“
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری گفتگو یہ تھی کہ تم حجاز اہل نجران کے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور یاد رکھو کہ سب سے برے لوگ وہ ہیں،جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12715]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الدارمي: 2498، والبزار: 439، والحميدي: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1691»
وضاحت: فوائد: … جزیرۃ العرب: بحرہند، بحر شام، پھر دجلہ فرات نے جتنے علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کرآبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ جزیرۃ العرب کہلاتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔)) (بخاری، مسلم) … مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجاز کی سرزمین سے یہودو نصاری کو جلا وطن کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب خیبر فتح کر لیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکال دینے کا ارادہ کیا۔ اس وقت خیبر کی زمین تو اللہ تعالی، رسول اللہ اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی۔ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کو خیبر میں رہنے دیا جائے، وہ کام کریں گے اور نصف پیداوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے تم لوگوں کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیں گے۔ سو وہ وہیں رہے، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیما او ر اریحا کے مقام کی طرف جلا وطن کر دیا۔ (بخاری: ۲۳۳۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔)) (بخاری، مسلم) … مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجاز کی سرزمین سے یہودو نصاری کو جلا وطن کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب خیبر فتح کر لیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکال دینے کا ارادہ کیا۔ اس وقت خیبر کی زمین تو اللہ تعالی، رسول اللہ اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی۔ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کو خیبر میں رہنے دیا جائے، وہ کام کریں گے اور نصف پیداوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے تم لوگوں کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیں گے۔ سو وہ وہیں رہے، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیما او ر اریحا کے مقام کی طرف جلا وطن کر دیا۔ (بخاری: ۲۳۳۸)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12716
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”الْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل ایمان تو اہل حجاز میں ہے اور دلوں کی سختی اور شدت اہل مشرق کے اونٹوں کے مالکوں میں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12716]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14612»
وضاحت: فوائد: … حجاز، عرب کا وہ حصہ ہے، جو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور طائف پر مشتمل ہے، ایمان و ایقان میں نام پیدا کرنے والی، بلکہ خونِ جگر سے شجرِ اسلام کی آبیاری کرنے والی شخصیات کی اکثریت کا تعلق حجاز سے تھا۔
مشرق سے مراد عراق کی سر زمین تھی۔
مشرق سے مراد عراق کی سر زمین تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 53