🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي فَضْلٍ عَمَّانَ وَعَدَنَ وَأَهْلِهَا
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12746
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا عَمَّانُ يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ بِهَا حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي مَا رَمَوْهُ بِسَهْمٍ وَلَا حَجَرٍ“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عمان نامی ایک سرزمین کو جانتا ہوں، جس کے ایک پہلو میں سمندر بہتا ہے، وہاں عرب کا ایک ایسا قبیلہ آباد ہے، اگرمیرا نمائندہ ان کے پاس جاتا تو وہ اس پر نہ تیر چلاتے اور نہ پتھر مارتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12746]
تخریج الحدیث: «صحيح بشاھده، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابولبيد لمازة بن زبار لم يدرك عمر ولا ابابكر، اخرجه ابويعلي: 106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 308»

الحكم على الحديث:
صحيح بشاھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12747
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ إِسْحَاقُ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ عَمَّانَ قَالَ مِنْ أَهْلِ عَمَّانَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا عَمَّانُ يَنْضَحُ بِجَانِبِهَا (وَقَالَ إِسْحَاقُ بِنَاحِيَتِهَا) الْبَحْرُ الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا“
حسن بن ہادیہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میری ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: میں اہل عمان میں سے ہوں، انہوں نے کہا: اہل عمان میں سے؟ میں نے کہا: جی ہاں!انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کر دوں؟ میں نے کہا: ضرور سنائیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عمان نامی ایک جگہ جانتا ہوں، جس کے پہلو میں سمندر بہتا ہے، وہاں سے آکر ایک حج اداکرنا دیگر مقامات سے آکر دو حج کرنے سے بھی افضل ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12747]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن بن ھادية مجھول الحال، اخرجه البيھقي في السنن: 4/ 335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4853»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12748
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَضَرَبُوهُ وَسَبُّوهُ فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ أَهْلَ عَمَّانَ أَتَيْتَ مَا ضَرَبُوكَ وَلَا سَبُّوكَ“
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی عربی قبیلے کی طرف نمائندہ بنا کر روانہ فرمایا، تو اس قبیلہ والوں نے اسے مارا اوربرا بھلا بھی کہا، اس نے واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل عمان کے ہاں جاتے تو وہ تمہیں نہ مارتے اور نہ برا بھلا کہتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12748]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20009»
وضاحت: فوائد: … بحرین کا ایک شہر عمان ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2544
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12749
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ“ قَالَ لِي مَعْمَرٌ اذْهَبْ فَاسْأَلْهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدن ابین سے بارہ ہزار ایسے لوگ برآمد ہو ں گے، جو اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں گے، میرے اوران کے درمیان جتنے بھی لوگ ہیں وہ ان تمام لوگوں سے افضل ہوں گے۔ معمر نے مجھ سے کہا: تم جا کر اس حدیث کی بابت پوچھ کرآؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12749]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، اخرجه ابويعلي: 2415، والطبراني: 11029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3079»
وضاحت: فوائد: … عدن ابین یمن کی مشہور بندرگاہ اور شہر ہے۔ا ب بھی یمنی لوگوں میں خیر غالب ہے، وہ بڑی قد و قامت والے بہترین جنگجو ہیں۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں