الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. الْبَاب الْخَامِسُ فِيمَا وَرَدَ فِي أَهْلِ فَارِسِ وَمَدِينَةَ مَرْوَ مِنْ أَعْمَالِ خُرَاسَانَ
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
حدیث نمبر: 12753
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اگر علم ثریا ستاروں کے پاس ہوتا، پھر بھی اہل فارس اسے ضرور حاصل کر لیتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12753]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7937»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 12754
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ أَخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ الَّذِي عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر دین ثریا ستاروں پر ہوتا، پھر بھی فارس یا اہل فارس کا ایک آدمی جاکر اسے ضرور حاصل کرلیتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12754]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8067»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ہے، وہ فارس سے مدینہ منورہ کیسے پہنچے؟ یہ ایک ایسی داستان ہے، جس کے مکمل علم سے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۷۴۳)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2546
حدیث نمبر: 12755
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَتَكُونُ بَعْدِي بُعُوثٌ كَثِيرَةٌ فَكُونُوا فِي بَعْثِ خُرَاسَانَ ثُمَّ انْزِلُوا مَدِينَةَ مَرْوَ فَإِنَّهُ بَنَاهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ وَدَعَا لَهَا بِالْبَرَكَةِ وَلَا يَضُرُّ أَهْلَهَا سُوءٌ“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد بہت سے لشکر روانہ کیے جائیں گے، تم کوشش کرکے خراسان کی طرف جانے و الے لشکر میں شامل ہونا اور جا کر مرو شہر میں قیام کرنا، کیونکہ ذوالقرنین نے اس شہر کو بنایا تھا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی، یہاں کے لوگوں کو کوئی بری چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12755]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا شبه موضوع، اوس بن عبد الله بن بريدة متروك الحديث، وكذا اخوه سھل، والحسن بن يحيي المروزي فيه نظر، قاله الحسيني، اخرجه الطبراني في الاوسط: 8211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23406»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا شبه موضوع