🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. البابُ الأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضَائِلِ بَعْضِ الْأَيَّامِ
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12757
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تُفْتَحُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا مَرَّتَيْنِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کے دن آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، جو بندے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے ان سب کی اس دن مغفرت کر دی جاتی ہے، لیکن جن دو مسلمانوں کی آپس میں دشمنی یا نفرت ہو ان کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ ان دونوں کا معاملہ مؤخر رکھو یہاں تک کہ یہ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12757]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9041»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2565
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12758
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے اعمال ہر جمعرات یعنی جمعہ کی رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں جو شخص قطع رحمی کرنے والا ہو، اس کے اعمال مقبول نہیں ہوتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12758]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10277»
وضاحت: فوائد: … اس وقت مسلمان باہمی دشمنی، نفرت اور قطع رحمی کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں اور خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت سے محروم ہو رہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں