الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. الْبَابُ الثَّانِي فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ اللَّيَالِي مُطْلَقًا
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12761
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے: ہے کوئی سوالی، جو مانگے اور وہ اسے دے دیا جائے، طلوع فجر تک یہی کیفیت رہتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12761]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 5319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3673»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12762
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ شَيْئًا تَعْلَمُهُ وَأَجْهَلُهُ لَا يَضُرُّكَ، وَيَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ، هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَفْضَلُ مِنْ سَاعَةٍ، وَهَلْ مِنْ سَاعَةٍ يُتَّقَى فِيهَا؟ فَقَالَ: ”لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَدَلَّى فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَيَغْفِرُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الشِّرْكِ وَالْبَغْيِ، فَالصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ، فَصَلِّ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ“، الْحَدِيثُ ذُكِرَ مُطَوَّلًا فِي مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ
سیدنا عمر وبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ایک بات جسے آپ جانتے ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں، آپ بتلا دیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اسے فائدہ پہنچا دے گا، آیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے افضل بھی ہوتی ہے؟ اور کیا کوئی وقت ایسا بھی ہے، جس میں عبادت کرنے سے بچنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی بات دریافت کی کہ جس کے بارے میں تم سے پہلے مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، آدھی رات کے بعد اللہ تعالیٰ عرش سے نیچے آجاتا ہے اس وقت شرک اور بغاوت کے علاوہ باقی گناہ کرنے والے سب لوگوں کو بخش دیتا ہے، ہر نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، تم صبح کی نماز طلوع آفتاب تک پڑھ سکتے ہو، جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز سے رک جاؤ، یہ حدیث عمر وبن عبسہ کے مناقب میں مفصل بیان ہوچکی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12762]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه بين سليم بن عامر وعمرو بن عبسة، علي خطأ في متنه، واختلف فيه علي يزيد بن ھارون، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19653»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه بين سليم بن عامر وعمرو بن عبسة