🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

61. فَصْلٌ في فَضْلٍ لَيْلَةِ النُّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12763
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی مخلوق پر نظر ڈالتا ہے اور اپنے تمام بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے، ما سوائے دو قسم کے آدمیوں کے، کسی سے بغض رکھنے والا اور کسی کا قاتل۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12763]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواهده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6642»
وضاحت: فوائد: … اسی رات کو ہمارے ہاں شب ِ براء ت کہتے ہیں، اس رات کی فضیلت کے بارے میں صرف مذکورہ بالا حدیث صحیح ہے، لیکن اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس رات کا خصوصی قیام کیا جائے اور اس کے دن کا خصوصی روزہ رکھا جائے، خاص عبادت کے لیے خاص دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس حدیث میں نصف شعبان کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے، یہ ہر سوموار اور جمعرات کی فضیلت بھی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12764
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ لِي: ”أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟“، قَالَتْ: قُلْتُ: ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوگھر میں موجود نہ پایا، میں آپ کی تلاش میں نکلی تو آپ بقیع میں تھے آپ نے اپنا سرمبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اس بات سے ڈر گئی کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کرے گا؟ کہتی ہیں، میں نے کہا: میں سمجھی تھی کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی نصف رات کوپہلے آسمان پر تشریف لاتاہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ انسانوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12764]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، ولانقطاعه، يحيي بن ابي كثير لم يسمع من عروة، والحجاج بن ارطاة لم يسمع من يحيي بن ابي كثير، اخرجه الترمذي: 739، وابن ماجه: 1389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26546»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں