الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
حدیث نمبر: 12865
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ عذاب سب لوگوں پر نازل ہوتا ہے، پھر حشر میں لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12865]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7108، ومسلم: 2879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5890»
وضاحت: فوائد: … جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو بیچ میں نیک لوگ بھی رگڑے جاتے ہیں، لیکن جب ان کا حشر ہو گا تو ان کی نیکیوں کا لحاظ رکھا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7108
حدیث نمبر: 12866
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ آئے گا جو تمام عربوں کا ستیاناس کر دے گا، اس فتنہ میں قتل ہونے والے لوگ جہنمی ہوں گے، اس فتنہ کے دوران زبان کو استعمال کرنا تلوار کو استعمال کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12866]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم وجھالة حال زياد بن سيماكوش، وھو تابعي يمامي، أخرجه ابوداود: 4265، والترمذي: 2178، وابن ماجه: 3967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6980»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ بات درست ہے کہ زمانۂ فتن میں زبان کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم وجھالة حال زياد بن سيماكوش
حدیث نمبر: 12867
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے اندھیروں کی طرح پے در پے آنے والے فتنوں سے پہلے پہلے نیک عمل کرلو، ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا، لیکن شام کو کافر ہوچکا ہوگا یا وہ شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی مال کے عوض بیچ ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12867]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8017»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 118
حدیث نمبر: 12868
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا سَتَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ يَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ“ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12868]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 4036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7899»
وضاحت: فوائد: … کون سمجھے ان حقائق کو؟ آج کل فیصلہ کرنے والے لوگ کون ہیں؟ لوگوں کی قیادت کرنے والے افراد کیسے ہیں؟ خاندانوں کے سربراہوں کی مذہبی کیفیت کیسی ہے؟ سیاست میں گشت کرنے والوں کے حالات کیسے ہیں؟ صرف تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے اعلی تعلیم یافتہ مدرسین کی یہ کیفیت ہے کہ وہ شرعی آداب اور حدود کے پابند نہیں ہوتے، بے پردہ عورتوں میں گھل مل کر رہتے ہیں، اپنے سہولت آمیز اور گندے مزاج کے مطابق اسلام کو لچک دار بناتے ہیں، بلکہ اسلامیات کے ایک پی ایچ ڈی پروفیسر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب بے پردگی کی اور خواتین و حضرات کی آپس میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کی گنجائش نکالنا پڑے گی۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 12869
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا دجال سے پہلے بھی ایسے سال آئیں گے کہ جن میں حقائق کو تبدیل کردیا جائے گا۔ آگے اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فاسق اور گھٹیا شخص جو عام لوگوں کے امور پر بحث کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12869]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الاوسط: 3282، والبزار: 3373، وابويعلي: 3715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13331»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 12870
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ بِحَرَامٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان مال کے بارے میں یہ پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12870]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2059، 2083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9837»
وضاحت: فوائد: … اب ایسے ہی ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2059
حدیث نمبر: 12871
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّحَالِ، يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، عَلَى رُؤُوسِهِنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ، اِلْعَنُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ، لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمَهُنَّ نِسَاؤُكُمْ، كَمَا خَدَمَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے‘ وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں‘ ان پر لعنت کرنا، اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12871]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الطبراني في الصغير: 1125، والحاكم: 4/ 436،و ابن حبان: 5753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7083»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی کر دی، ایسے ہی ہو رہا ہے۔
لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّاتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خاندانوں کے سربراہ اس قدر بے حس ہو گئے ہے کہ وہ اس کو برائی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
رہا مسئلہ گاڑیوں پر سوار ہو کر مساجد کی طرف آنے کا، تو شرعی مسئلہ کی حد تک اس کی گنجائش ملتی ہے، لیکن اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا ہے؟ شیخ البانی کے درج ذیل کلام میں جواب دیا جائے گا۔
شیخ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: (فوائد المخلص) میں الرحال کے الفاظ ہیں،جب کہ (مسند الامام احمد) اور (الموارد) میں الرجال کے۔ اسی روایت کی شرح کرتے ہوئے شیخ احمد عبد الرحمن بُنّا نے (الفتح الربانی: ۱۷/۳۰۱) میں کہا: (جو لوگ اپنی عورتوں کو بے پردہ چھوڑ دیتے ہیں) وہ انسانی وجود میں ڈھلے ہوئے انسان ضرور ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں مرد نہیں ہوتے، کیونکہ جو مرد حسّی اور معنوی طور پر کامل ہوتا ہے، وہ اپنی عورتوں کو ایسا لباس نہیں پہننے دیتا، جس سے ان کے جسم کا پردہ ہی نہ ہو۔
لیکن وہ اس اشکال پر مطلع نہ ہو سکے، جس کے بارے میں شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسند احمد پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا: (اگر الرجال کے الفاظ پر مشتمل روایت کو درست تسلیم کریں تو) اس حدیث مبارکہ کے الفاظ میری امت کے آخری زمانے میں لوگ، لوگوں کی طرح زینوں پر سوار ہوں …۔ میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ مردوں کو مردوں سے تشبیہ دینا بعید بات ہے اور اس کی تاویل میں تکلف پایا جا تا ہے، امام حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی الْمَیَاثِرِ حَتّٰی یَاْتُوْا اَبْوَابَ مَسَاجِدِھِمْ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ …۔)) یعنی: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ ریشم و دیباج سے آراستہ سواریوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ …۔ اور طبرانی کے حوالے سے (مجمع الزوائد) میں بیان کردہ الفاظ یہ ہیں: ((سیکون فی امتی رجال یرکبون نساؤھم علی سروج کأشباہ الرجال۔)) مجمع الزوائد کے طابع نے جرأت یا جہالت کی بنا پر اس روایت کے الفاظ یُرْکِبُون کو یرکب سے بدل دیا، میرے نزدیک تو یُرْکِبُونَ نِسَائَ ھُم کے الفاظ واضح اور ظاہر ہیں۔
بہرصورت حدیث ِ مبارکہ کا مرادی معنی واضح ہے اور عصرِ حاضر میں ثابت ہو چکا ہے، بلکہ اس دور سے پہلے بھی لعنت وصول کرنے والی برہنہ عورتوں کا وجود ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر شیخ احمد شاکر کو الرحال والی روایت کا علم ہوتا تو ان کا اشکال دور ہو جاتا اور بغیر کسی تکلف و توجیہ کے معنی درست ہو جاتا، میرے نزدیک تو تین اسباب کی بنا پر اِنہی الفاظ والی روایت راجح ہے۔
یہ حدیث ِ مبارکہ اسے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، آج کل واقعی لوگ گاڑیوں پر سوار ہو کرمساجد کے دروازوں تک پہنچتے ہیں۔ جمعہ کے دن اتنی موٹر کاریں اور دوسری گاڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ سڑک کھلی ہونے کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں کی کثیر تعداد یا تو سرے سے باقی پانچ نمازوں کا اہتمام نہیں کرتی یا پھر اپنے گھروں میں ادا کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔ گویا کہ ان لوگوں نے نمازِ جمعہ کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، اس لیے اس موقع پر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، گاڑیوں کے ذریعے مساجد تک پہنچنے کی وجہ سے یہ لوگ نماز کے مقصد اور ثمرہ سے محروم رہتے ہیں، اور ایسے لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کا معاملہ بھی بڑا واضح ہے۔
اس سے بڑھ کر اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک اور مصداق نمازِ جنازہ کے موقع پر دکھائی دیتا ہے۔ نازک مزاج، عیش پرست اور آسودگی کی وجہ سے مغرور اور فرضی نماز کو ترک کرنے والے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر نمازِ جنازہ کے پیچھے چلتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب جنازہ کو گاڑی سے اتار کر مسجد میں یا جنازہ گاہ میں رکھا جاتا ہے تو یہ لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے رہتے ہیں، البتہ جب دفنانے کا وقت آتا ہے تو عبادت یا ذکرِ آخرت کی بنا پر نہیں، بلکہ نفاق، مداہنت اور چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے جنازے کے ساتھ چل پڑتے ہیں ہیں۔ بس اللہ ہی ہے، جس سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
میرے نزدیک تو تاویل کی یہی صورت بہتر ہے، اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر یہ خطا پر مبنی ہے تو میری طرف سے ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ میرے تمام گناہ معاف کر دے، وہ دانستہ طور پر کیے ہوں یا نادانستہ طور پر۔ (صحیحہ: ۲۶۸۳)
لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّاتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خاندانوں کے سربراہ اس قدر بے حس ہو گئے ہے کہ وہ اس کو برائی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
رہا مسئلہ گاڑیوں پر سوار ہو کر مساجد کی طرف آنے کا، تو شرعی مسئلہ کی حد تک اس کی گنجائش ملتی ہے، لیکن اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا ہے؟ شیخ البانی کے درج ذیل کلام میں جواب دیا جائے گا۔
شیخ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: (فوائد المخلص) میں الرحال کے الفاظ ہیں،جب کہ (مسند الامام احمد) اور (الموارد) میں الرجال کے۔ اسی روایت کی شرح کرتے ہوئے شیخ احمد عبد الرحمن بُنّا نے (الفتح الربانی: ۱۷/۳۰۱) میں کہا: (جو لوگ اپنی عورتوں کو بے پردہ چھوڑ دیتے ہیں) وہ انسانی وجود میں ڈھلے ہوئے انسان ضرور ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں مرد نہیں ہوتے، کیونکہ جو مرد حسّی اور معنوی طور پر کامل ہوتا ہے، وہ اپنی عورتوں کو ایسا لباس نہیں پہننے دیتا، جس سے ان کے جسم کا پردہ ہی نہ ہو۔
لیکن وہ اس اشکال پر مطلع نہ ہو سکے، جس کے بارے میں شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسند احمد پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا: (اگر الرجال کے الفاظ پر مشتمل روایت کو درست تسلیم کریں تو) اس حدیث مبارکہ کے الفاظ میری امت کے آخری زمانے میں لوگ، لوگوں کی طرح زینوں پر سوار ہوں …۔ میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ مردوں کو مردوں سے تشبیہ دینا بعید بات ہے اور اس کی تاویل میں تکلف پایا جا تا ہے، امام حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی الْمَیَاثِرِ حَتّٰی یَاْتُوْا اَبْوَابَ مَسَاجِدِھِمْ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ …۔)) یعنی: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ ریشم و دیباج سے آراستہ سواریوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ …۔ اور طبرانی کے حوالے سے (مجمع الزوائد) میں بیان کردہ الفاظ یہ ہیں: ((سیکون فی امتی رجال یرکبون نساؤھم علی سروج کأشباہ الرجال۔)) مجمع الزوائد کے طابع نے جرأت یا جہالت کی بنا پر اس روایت کے الفاظ یُرْکِبُون کو یرکب سے بدل دیا، میرے نزدیک تو یُرْکِبُونَ نِسَائَ ھُم کے الفاظ واضح اور ظاہر ہیں۔
بہرصورت حدیث ِ مبارکہ کا مرادی معنی واضح ہے اور عصرِ حاضر میں ثابت ہو چکا ہے، بلکہ اس دور سے پہلے بھی لعنت وصول کرنے والی برہنہ عورتوں کا وجود ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر شیخ احمد شاکر کو الرحال والی روایت کا علم ہوتا تو ان کا اشکال دور ہو جاتا اور بغیر کسی تکلف و توجیہ کے معنی درست ہو جاتا، میرے نزدیک تو تین اسباب کی بنا پر اِنہی الفاظ والی روایت راجح ہے۔
یہ حدیث ِ مبارکہ اسے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، آج کل واقعی لوگ گاڑیوں پر سوار ہو کرمساجد کے دروازوں تک پہنچتے ہیں۔ جمعہ کے دن اتنی موٹر کاریں اور دوسری گاڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ سڑک کھلی ہونے کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں کی کثیر تعداد یا تو سرے سے باقی پانچ نمازوں کا اہتمام نہیں کرتی یا پھر اپنے گھروں میں ادا کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔ گویا کہ ان لوگوں نے نمازِ جمعہ کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، اس لیے اس موقع پر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، گاڑیوں کے ذریعے مساجد تک پہنچنے کی وجہ سے یہ لوگ نماز کے مقصد اور ثمرہ سے محروم رہتے ہیں، اور ایسے لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کا معاملہ بھی بڑا واضح ہے۔
اس سے بڑھ کر اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک اور مصداق نمازِ جنازہ کے موقع پر دکھائی دیتا ہے۔ نازک مزاج، عیش پرست اور آسودگی کی وجہ سے مغرور اور فرضی نماز کو ترک کرنے والے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر نمازِ جنازہ کے پیچھے چلتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب جنازہ کو گاڑی سے اتار کر مسجد میں یا جنازہ گاہ میں رکھا جاتا ہے تو یہ لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے رہتے ہیں، البتہ جب دفنانے کا وقت آتا ہے تو عبادت یا ذکرِ آخرت کی بنا پر نہیں، بلکہ نفاق، مداہنت اور چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے جنازے کے ساتھ چل پڑتے ہیں ہیں۔ بس اللہ ہی ہے، جس سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
میرے نزدیک تو تاویل کی یہی صورت بہتر ہے، اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر یہ خطا پر مبنی ہے تو میری طرف سے ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ میرے تمام گناہ معاف کر دے، وہ دانستہ طور پر کیے ہوں یا نادانستہ طور پر۔ (صحیحہ: ۲۶۸۳)
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 12872
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا بِهِ أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب آخری زمانہ میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے کہ جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12872]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم في المقدمة: 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8250»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! ناخواندہ تو کجا، تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس حدیث کا مصداق بننے سے نہ بچ سکا، صرف دو مثالوں پر غور کریں:
۱۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ مِنَ الْمَہْدِ إِلَی اللَّحْدِ … گود سے گور تک علم حاصل کر۔
۲۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ وَلَوْ فِیْ الصِّیْنِ … علم حاصل کر، اگرچہ تجھے چین جانا پڑے۔
یہ دونوں حدیثیں ہمارے تعلیمی اداروں میںبہت مشہور ہیں اور بڑی کثرت کے ساتھ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی کوئی اصل نہیں ہے۔
۱۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ مِنَ الْمَہْدِ إِلَی اللَّحْدِ … گود سے گور تک علم حاصل کر۔
۲۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ وَلَوْ فِیْ الصِّیْنِ … علم حاصل کر، اگرچہ تجھے چین جانا پڑے۔
یہ دونوں حدیثیں ہمارے تعلیمی اداروں میںبہت مشہور ہیں اور بڑی کثرت کے ساتھ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی کوئی اصل نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 12873
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ“ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ”ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ“
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12873]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم، وحبيبُ بن عبيد الرحبي لم يدرك معاذا، أخرجه الطبراني في الاوسط: 437، والبزار: 2650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22405»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم