🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12835
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُعُودًا نَذْكُرُ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ ذِكْرَهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ قَالَ ”فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ هِيَ فِتْنَةُ هَرْبٍ وَحَرْبٍ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَلُهَا أَوْ دَفَعُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي إِنَّمَا وَلِيِّيَ الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ انْقَطَعَتْ تَمَادَّتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ إِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے فتنوں کا تذکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے بھی فتنۂ احلاس سمیت بہت سے فتنوں کا ذکر کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! فتنۂ احلاس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنۂ احلاس سے مرادجنگ و جدل اور شکست و ریخت کا زمانہ ہے‘ پھر خوشحالی و آسودگی کا فتنہ ابھرے گا‘ اس کی ابتداء و انتہاء اور سرپرستی و ذمہ داری ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہو گی‘ جو اپنے گمان کے مطابق مجھ سے ہو گا‘ حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا‘ میرے دوست تو پرہیز گار لوگ ہیں‘ پھر لوگ ایسے شخص پر صلح کریں گے، جو مستقل طور پربادشاہت کے لائق اوراس کا اہل نہیں ہو گا، اس کے بعد بھیانک آفت و مصیبت پر مشتمل فتنہ نمودار ہو گا‘ وہ اس امت کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا ہے‘ تو وہ حد سے بڑھ کر سامنے آئے گا۔ بندہ بوقت ِ صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، لوگ دو جماعتوں میں بٹ جائیں گے: ایک جماعت صاحبِ ایمان ہو گی‘ اس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا اور دوسری جماعت صاحبِ نفاق ہو گی‘ اس میں کوئی ایمان نہیں ہو گا‘ جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو دجال کا انتظار کرنا‘ وہ اسی دن آسکتا ہے، یا پھر اگلے دن آ جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12835]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 4242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6168»
وضاحت: فوائد: … حلس کی جمع احلاس ہے، اس کے معانی ہیں: وہ چادر جو پالان کے نیچے اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ ملی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ فتنہ طول اختیار کرے گا اور چھٹنے کا نام نہیں لے گا، جیسے یہ چادر اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس چادر کی سیاہی اور ظلمت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو۔امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: کَوَرِکٍ عَلٰی ضِلَعٍ کا لفظی معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ پسلی، کولہے پر سہارا نہیں لیتی۔ یہ ایک ضرب المثل ہے، جس کے معانی ہیں: وہ معاملہ جو ثابت ہوتا ہے نہ سیدھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ وہ شخص بادشاہت کے لائق ہو گا نہ اس کا مستقل اہل۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12836
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا صَاحِبُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ بِأَحَقَّ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِآخِرَةٍ الْآنَ وَالدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَئِنْ أَنْتُمُ اتَّبَعْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَيَلْزِمَنَّكُمُ اللَّهُ مَذَلَّةً فِي أَعْنَاقِكُمْ ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ وَتَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ“ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ إِلَى مُهَاجَرِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِينَ إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا وَتَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَتَقْذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَقِيلُ حَيْثُ يَقِيلُونَ وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا“ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ“ قَالَ يَزِيدُ أَحَدُ الرُّوَاةِ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ”يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ عَمَلَهُ مَعَ عَمَلِهِمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ“ فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرَ وَأَنَا أَسْمَعُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب انسان اپنے مسلمان بھائی کو صاحب ِ ثروت اور مال دار کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتا تھا، لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں مسلم بھائی کی بہ نسبت دینار اوردرہم زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم نے جہاد کو چھوڑ دیا اور گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ گئے اور بیع عِینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا،اور جب تک تم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ نہیں کرو گے اور اپنے اصل دین کی طرف نہیں لوٹو گے تو وہ ذلت بھی تم سے جدا نہیں ہو گی۔ اور میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ باقی روئے زمین پر صرف بد ترین لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین ان کو اگل دے گی اور اللہ تعالیٰ کی روح بھی ان سے نفرت کرے گی اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ گھیر کر ایک جگہ جمع کرے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، آگ بھی وہیں قیلولہ کرے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے، آگ بھی وہیں رات گزارے گی اور ان میں سے جو آدمی گر جائے، وہ آگ اسے جلا دے گی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ: میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12836]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 174، وأخرج البخاري (6932) وقد ذكر الحرورية، فقال: قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم: ((يمرقون من الاسلام كما يمرق السھم من الرمية۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5562»
وضاحت: فوائد: … گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ جانے سے مراد کھیتی باڑی میں مصروف ہو جانا ہے۔ یاد رہے کہ کھیتی باڑی فی نفسہ پسندیدہ چیز ہے،لیکن جب آدمی جہاد اوردوسرے احکامِ شریعت سے روگردانی کر کے دنیوی مال و دولت سمیٹنے میں مصروف ہو جاتا ہے تو اس وقت رزق کا ہر حلال سبب بھی قابل مذمت قرار پاتا ہے۔ بیع عِینہ: یہ تجارت کی ا یک قسم ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ ایک انسان کسی کو کوئی چیز ادھار پر فروخت کرے، پھر اس سے وہی چیز نقداً کم قیمت میں خرید لے۔یہ دراصل ادھار کے عوض زیادہ رقم حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12837
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12837]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6788»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6788
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12838
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ ”سِتٌّ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ مَوْتُ نَبِيِّكُمْ“ فَكَأَنَّمَا انْتَزَعَ قَلْبِي مِنْ مَكَانِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَاحِدَةً“ قَالَ ”وَيَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى عَشَرَةَ آلَافٍ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُهَا“ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ثِنْتَيْنِ“ قَالَ ”وَفِتْنَةٌ تَدْخُلُ بَيْتَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ“ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ثَلَاثٌ“ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَمَوْتٌ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ“ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَرْبَعٌ وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ لَيَجْمَعُونَ لَكُمْ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ كَقَدْرِ حَمْلِ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَكُونُونَ أَوْلَى بِالْغَدْرِ مِنْكُمْ“ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَمْسٌ“ قَالَ ”وَفَتْحُ مَدِينَةٍ“ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سِتٌّ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَدِينَةٍ قَالَ ”قُسْطَنْطِينَةُ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت ٹھہر ٹھہر کر وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور مجھے دیکھ کر فرمایا: اے میری امت! (قیامت سے پہلے) تمہارے اندر چھ بڑے بڑے امور رونما ہوں گے، پہلی چیز تمہارے نبی کی موت ہے۔ یہ بات سن کر مجھے یوں لگا کہ میرا دل اپنی جگہ سے اڑ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ہے۔ پھر فرمایا: اور تمہارے اندر دولت کی اس قدر ریل پیل ہوجائے گی کہ کسی کو دس ہزار بھی دئیے جائیں گے تو وہ اسے قلیل سمجھتے ہوئے ناگواری کا اظہار کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دوسری علامت ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا جو تم میں سے ہر ایک کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیسری علامت ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کثرت سے موتیں واقع ہوں، جیسے بکریاں ایک خاص بیماری کی وجہ سے مرنے لگتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چوتھی علامت ہے اور تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہوگی، وہ عورت کے حمل کی مدت یعنی نوماہ تک تو تم سے صلح رکھیں گے، پھر وہ تم سے بے وفائی کر جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ پانچویں علامت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور ایک شہر فتح ہوگا، یہ چھٹی علامت ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا شہر؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12838]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6623»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12839
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ مَوْتِي وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَنْدًا كُلُّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا“
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ امور قیامت کی علامتوں میں سے ہیں: (۱)میری وفات، (۲)بیت المقدس کی فتح، (۳)بکریوں میں موت کی وبا کی طرح انسانوں کی بکثرت اموات، (۴)وہ فتنہ جس کی لڑائی کی آگ ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گی، (۵) (اس حدتک دولت کی کثرت ہو گی کہ) اگر ایک آدمی کو ایک ہزار دینار دئیے جائیں گے تو وہ انہیں قلیل سمجھ کر ناراضگی کا اظہار کرے گا اور (۶) رومیوں کی بد عہدی و بے وفائی، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گیں اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12839]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 20/ 244، وابن ابي شيبة: 15/ 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22342»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں چھ علامات قیامت بیان کی گئی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے، بیت المقدس کی فتح مکمل ہو گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ خلافت فاروقی میں طاعون کی وجہ سے تین دنوں میں ستر ہزار لوگوں کا مر جانا اسی حدیث کا مصداق ہے۔ حدیث میں وہ فتنہ مراد ہے، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سبب بنا اور پھر اس کے فتنوں کا تسلسل ابھی تک جاری ہے۔ پانچویں علامت سے مراد مال و دولت کی کثرت ہے، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں عظیم فتوحات کی وجہ سے پوری ہو چکی ہے، اس کے بعد سے مال و دولت میں اضافہ ہوتا رہا۔ چھٹی علامت یعنی رومیوںکا غداری کرنا، جس میں وہ سات لاکھ اور ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ آئیں گے، ابھی تک واقع نہیں ہوئی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12840
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ”عَوْفٌ“ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ ”ادْخُلْ“ قَالَ قُلْتُ كُلٌّ أَوْ بَعْضِي قَالَ ”بَلْ كُلُّكَ“ قَالَ ”اعْدُدْ يَا عَوْفُ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَوَّلُهُنَّ مَوْتِي“ قَالَ فَاسْتَبْكَيْتُ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَكِّتُنِي قَالَ قُلْتُ إِحْدَى ”وَالثَّانِيَةُ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ“ قُلْتُ اثْنَيْنِ ”وَالثَّالِثَةُ مَوْتَانٌ يَكُونُ فِي أُمَّتِي يَأْخُذُهُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ“ قَالَ ”ثَلَاثًا وَالرَّابِعَةُ فِتْنَةٌ تَكُونُ فِي أُمَّتِي وَأَعْظَمُهَا“ قَالَ ”أَرْبَعًا وَالْخَامِسَةُ يَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى الْمِائَةَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا“ قَالَ ”خَمْسًا وَالسَّادِسَةُ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ عَلَى ثَمَانِينَ غَايَةً“ قُلْتُ وَمَا الْغَايَةُ قَالَ ”الرَّايَةُ تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ فِي أَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ فِي مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ“
سیدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کہا، آپ نے پوچھا: عوف ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: اندر آجاؤ۔ میں نے کہا: سارا آجاؤں یا کچھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پورے کے پورے ہی آجاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے چھ بڑی بڑی علامتوں کو شمار کرو، پہلی علامت میری موت ہے۔ یہ سن کر میں رونے لگ گیا، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے چپ کرانے لگ گئے، میں نے کہا: یہ ایک ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوسری بیت المقدس کی فتح ہے۔ میں نے کہا: یہ دوسری ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیسری علامت یہ ہے کہ میری امت میں اس قدر زیادہ موتیں ہوں گی، جیسے بکریاں موت کی وباء میں مرنے لگتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیسری ہو گئی، اور چوتھی علامت یہ ہے کہ ایک بڑا فتنہ ہو گا، یہ چوتھی ہو گئی اور پانچواں یہ کہ دولت اس قدر عام ہوجائے گی کہ جب کسی کو ایک سو دینار دئیے جائیں گے تو وہ ان کو قلیل سمجھتے ہوئے غصے کا اظہار کرے گا۔ آپ نے فرمایا: یہ پانچویں ہوئی اور چھٹی علامت یہ ہو گی کہ تمہارے اور بنو الاصفر کے درمیان صلح ہوگی،لیکن وہ (عہد توڑ کر) اسی جھنڈوں کے نیچے چل کر آئیں گے۔ میں نے کہا: غایہ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد جھنڈا ہے، ہر جھندے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے، ان دنوں مسلمانوں کا مرکز دمشق میں غوطہ نامی مقام پر ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12840]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3176، وابوداود!: 5000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24485»
وضاحت: فوائد: … بنو الاصفر: ایشائے کوچک اور قسطنطنیہ وغیرہ میں رہنے والے رومی باشندوں کا لقب۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3176
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12841
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدِ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ حَسَنَ الثَّغْرِ يُعْرَفُ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ قَالَ فَقُلْتُ مَنِ الرَّجُلُ فَقَالَ الْقَوْمُ أَوَمَا تَعْرِفُهُ فَقُلْتُ لَا فَقَالُوا هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَعَدْتُ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ إِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ بِمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ ذَلِكَ جَاءَ الْإِسْلَامُ حِينَ جَاءَ فَجَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ كَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ قَدْ أُعْطِيتُ فِي الْقُرْآنِ فَهْمًا فَكَانَ رِجَالٌ يَجِيئُونَ فَيَسْأَلُونَ عَنِ الْخَيْرِ فَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ فَقَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”السَّيْفُ“ قَالَ قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ هَذَا السَّيْفِ بَقِيَّةٌ قَالَ ”نَعَمْ تَكُونُ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ“ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ”ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَالْزَمْهُ وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلِ شَجَرَةٍ“ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ”يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ مَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحَطَّ وَزْرُهُ وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ وَجَبَ وَزْرُهُ وَحَطَّ أَجْرُهُ“ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ”ثُمَّ تُنْتَجُ الْمَهْرُ فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ“ الصَّدَعُ مِنَ الرِّجَالِ الضَّرْبُ وَقَوْلُهُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ قَالَ السَّيْفُ كَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَوْلُهُ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٍ يَقُولُ صُلْحٌ وَقَوْلُهُ عَلَى دَخَنٍ يَقُولُ عَلَى ضَغَائِنَ قِيلَ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مِمَّنْ التَّفْسِيرُ قَالَ عَنْ قَتَادَةَ زَعَمَ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ”مَا هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ“ قَالَ ”قُلُوبٌ لَا تَعُودُ عَلَى مَا كَانَتْ“
خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں:جس زمانے میں تُسْتَر فتح ہوا تھا، میں ان دنوں کوفہ میں گیا، میں ایک مسجد میں داخل ہوا اور دیکھا کہ لوگ وہاں ایک حلقہ کی صورت میں بیٹھے ہیں، اس میں ایک چھریرے بدن کا آدمی تھا، اس کے اگلے دانت یا منہ بہت خوبصورت تھا، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ حجاز کا رہنے والا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیا آپ ان کو نہیں جانتے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر میں بھی بیٹھ گیا، وہ لوگوں سے باتیں کرتے رہے، انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرّ کے متعلق پوچھا کرتا تھا۔ لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوئی، لیکن انھوں نے کہا: تم جس بات پر تعجب کر رہے ہو، میں تمہیں بتلاتا ہوں۔ جب اسلام آیا تو ایسا ماحول پیدا ہوگیا کہ جو جاہلیت کے دور سے مختلف تھا، جبکہ مجھے فہمِ قرآن کا کافی ملکہ حاصل تھا، لوگ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیر کی بات پوچھا کر تے، جبکہ میں شرکے بارے میں پوچھا کرتا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعد شر (اورفتنوں) کا دور آئے گا، جیسا کہ اس سے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے کہا: کیا تلوار کے چلنے کے بعد اسلام کا کوئی حصہ باقی رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن بباطن لڑائی ہو گی اور ظاہری صلح ہو گی‘ اس کے بعد ضلالت و گمراہی کی طرف پکارنے والے منظرِ عام پر آئیں گے‘ اگر ان دنوں میں تجھے کوئی خلیفہ نظر آ جائے تو اسے لازم پکڑ لینا‘ اگرچہ وہ تیرے جسم کو اذیت پہنچائے اور تیرا مال سلب کر لے، وگرنہ اس حال میں مر جانا کہ تو درخت کے تنے کے ساتھ چمٹا ہوا ہو۔ میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر دجال نمودار ہو گا، اس کے پاس پانی کی نہر ہوگی اور آگ بھی ہوگی، جو آدمی اس کی آگ میں گیا، اس کے لیے اللہ کے ہاں اجر (اور نجات) لازمی ہوگی، اور اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، لیکن جو کوئی اس کی نہر میں چلا گیا، وہ گنہگار ہوگا اور اس کا تمام اجر و ثواب ضائع ہوجائے گا۔ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اس قدر جلد قیامت آجائے گی کہ ان دنوں جو گھوڑی بچہ جنم دے گی، ابھی تک اس پر سواری نہ کی جائے گی کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ اَلصَّدَعُ مِنَ الرَّجَالِ سے مراد الضرب یعنی کم گوشت والا آدمی ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کہ اس فتنے سے بچنے کی کیا صورت ہوگی؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب کہ تلوار ہو گی، امام قتادہ اس کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہونے والے ارتداد پر محمول کرتے تھے، اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٍ سے مراد صلح ہے، اور الدخن سے مراد دلی نفرت اور کھوٹ ہے۔ جب حدیث کے راوی عبدالرزاق سے پوچھا گیا کہ ان الفاظ کی یہ وضاحت کس نے کی ہے تو انھوں نے کہا کہ امام قتادۃ نے کی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12841]
تخریج الحدیث: «حديث حسن دون قوله: ثم ينتج المھر فلا يركب حتي تقوم الساعة، أخرجه ابوداود: 4245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23822»
وضاحت: فوائد: … السَّیْف:تلوار کے ذریعے عفت و عصمت کا تحفظ ہو گا۔
بقیّۃ:یعنی جب ہم ان سے لڑیں گے، تو کیا اس لڑائی کے بعد اسلام باقی رہے گا؟
أقذائ: ابن اثیر کہتے ہیں: قذاۃ کی جمع القَذی ہے اور القَذی کی جمع أقذائ ہے۔ لغت میں اس سے مراد وہ مٹی یا بھوسے کے تنکے یا میل کچیل ہے، جو آنکھ میں پڑتی ہے یا پانی میں گرتی ہے۔ حدیث میں اس لفظ کا مفہوم یہ ہے کہ بظاہر مسلمان اکٹھے تو ہوں گے، لیکن ان کے دلوں میں فساد اور کینہ ہو گا۔
دَخَن:قتادہ کی رائے کے مطابق اس سے مراد کینہ ہے، متن میںمذکور ایک طریق میں اس کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے: لوگوں کے دل (ان خصائل حمیدہ) کی طرف نہیں لوٹیں گے‘ جن سے وہ پہلے متصف ہوں گے۔
جَذْل:وہ لکڑی، جو اس مقصد کے لیے گاڑھی جاتی ہے، تاکہ اونٹ اس کے ساتھ خارش کریں۔
اہم فائدہ: … حافظ ابن حجرکہتے ہیں کہ طبری نے کہا: اس حدیث میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ جب مسلمانوں کا ایک حاکم و خلیفہ نہ ہو اور وہ مختلف فرقوں میں بٹ چکے ہوں، تو پھر کسی مخصوص فرقے کی پیروی نہ کرے اور تمام تنظیموں سے علیحدگی اختیار کر لے، بشرطیکہ ایسا کرنے میں کسی شرّ کا خطرہ نہ ہو، اس موضوع پر مختلف احادیث میں یہی جمع و تطبیق مناسب ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن دون قوله: ثم ينتج المھر فلا يركب حتي تقوم الساعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12842
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ قَالَ ”يَا حُذَيْفَةُ اقْرَأْ كِتَابَ اللَّهِ وَاعْمَلْ بِمَا فِيهِ“ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَعَلِمْتُ أَنَّهُ إِنْ كَانَ خَيْرًا اتَّبَعْتُهُ وَإِنْ كَانَ شَرًّا اجْتَنَبْتُهُ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ”نَعَمْ فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ عَمَّاءُ صَمَّاءُ وَدُعَاةُ ضَلَالَةٍ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجْلَبَهُمْ قَذَفُوهُ فِيهَا“
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعدپھر شر (اور فتنے) کا دور آئے گا، جیسا کہ پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب پڑھتے رہنا اور اس پر عمل کرتے رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، لیکن میں نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا دی، مجھے معلوم تھا کہ اگر خیر ہو گی تو اس کی پیروی کروں گا اور شرّ ہونے کی صورت میں اس سے اجتناب کروں گا، اس لیے میں نے پھر کہہ دیا کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ کا دور ہو گا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں‘ اندھا دھند فتنہ ہو گا‘ اور اس میں ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے داعی ہوں گے، جو آدمی ان کی بات مانے گا، وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12842]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23842»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12843
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ فَإِنْ يَقْطَعِ السِّلْكَ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علاماتِ قیامت کی مثال دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہے کہ جب دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو باری باری گرنے لگ جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12843]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مؤمل بن اسماعيل سييء الحفظ، وعلي بن زيد بن جدعان ضعيف، وقد توبعا، وتبقي علته خالد بن الحويرث، قال ابن معين: لا اعرفه، أخرجه الحاكم: 4/ 473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7040»
وضاحت: فوائد: … جب علامات ِ قیامت کا ظہور شروع ہو گا تو وہ یکے بعد دیگرے جلدی جلدی رونما ہونا شروع ہو جائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن برائیوں کو قیامت کی علامات میں شمار کیا ہے، وہ بھی مختلف علاقوں میں ایک ایک کر کے جلد ہی منظرِ عام پر آ گئیں، جیسے سود، زنا، شراب، قطع رحمی اور جھوٹی گواہی کا عام ہونا، سچی شہادت کو چھپانا اور مخصوص لوگوں کو سلام کہنا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12844
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرَى رُعَاةُ الشَّاءِ رُؤُوسَ النَّاسِ وَأَنْ يُرَى الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ الْجُوعُ يَتَبَارَوْنَ فِي الْبِنَاءِ وَأَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّهَا أَوْ رَبَّتَهَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہیں کہ بکریوں کے چرواہے لوگوں کے سردار اور حکمران بن جائیں گے اور ننگے پاؤں، برہنہ جسم اور بھوکے لوگ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جائیں گے اور لونڈیاں اپنے مالک یامالکہ کو جنم دیں گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12844]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الدارقطني: 3/ 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9117»
وضاحت: فوائد: … عرصے سے یہ تینوں علامتیں پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، دیکھیں مستقبل میں کیا ہوتا ہے۔
لونڈیاں اپنے مالک یامالکہ کو جنم دیں گی۔ اس کے مختلف مفہوم بیان کیے گئے ہیں، بعض یہ ہیں:
۱۔ والدین کی نافرمانی بہت زیادہ ہو جائے گی، اولاد ان سے ایسا سلوک کرے گی، جیسے آقا اپنے غلاموں کے ساتھ کرتے ہیں۔
۲۔ آقا سے مراد مربی لوگ ہیں، یعنی لوگ اپنے مربّیوں کے احسانات کو بھول جائیں گے اور ان پر اپنا حکم چلائیں گے۔
۳۔ یہ محض ایک مثال ہے، اس کا مرادی معنی یہ ہے کہ زمانہ بدل جائے گا اور لوگوں کے حالات تبدیل ہو جائیں گے اور وہ اس طرح کہ اعلی اور اقتدار والے ذلیل ہو جائیں گے اور نا اہل اور کمینے لوگ عالی مقام اور بادشاہ بن جائیں گے۔
۴۔ لونڈیاں بادشاہوں کو جنم دیں گے اور وہ اس طرح کہ پہلے وقت میں بادشاہ آزاد عورتوں کی رغبت رکھتے اور لونڈیوں سے جماع کرنے سے عار محسوس کرتے تھے، لیکن حالات اور رغبتیں بدل گئیں اور اِن کی لونڈیوں سے اولاد ہونے لگ گئی، جن کو ورثے میں بادشاہت مل جاتی تھی، بنو عباس میں ایسے ہوتا رہا۔
۵۔ حالات میں فساد آ جائے گا اور کثرت سے امہات الاولاد کی خرید وفروخت ہو گی، حتی کہ ایک شخص ایسی لونڈی خریدے گا، جو اس کی ماں ہو گی، پھر اس کے ساتھ وہ آقا والا معاملہ کرے گا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں