🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. مَارُوى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12900
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک لوگ مساجد کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہیں کرنے لگیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12900]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 449، والنسائي: 2/ 32، وابن ماجه: 739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12406»
وضاحت: فوائد: … فخر کرنے کی دو صورتیں ہیں: (۱) زبان سے اظہار کرنا، جیسا کہ آج کل لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کی مسجد بہت خوبصورت اور وسیع ہے، اس میں لگا ہوا پتھر بڑا قیمتی ہے، اس کے مینار اتنے بلند ہیں، اس میں بچھا ہوا قالین اس قسم کا ہے، اس میں لکڑی کا کام بڑے ہنر کے ساتھ کیا گیا ہے، جبکہ سننے والے منتظم حضرات کو اس سے خوشی ہوتی ہو۔ (۲) فعل سے اظہار کرنا، مثلا مسجد کی تزیین و آرائش میں مبالغے سے کام لینا اور دل ہی دل میں یہ سمجھنا کہ ہماری مسجد باقی سب مسجدوں سے ممتاز ہے، بلکہ بعض دفعہ زبان سے اس کا اظہار بھی کر دینا۔
کوئی مانے یا نہ مانے، کسی نہ کسی صورت میں اکثر و بیشتر لوگوں میں یہ فخر اپنی دونوں قسموں کے ساتھ پایا جا رہا ہے، الا ما شاء اللہ۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر(۱۳۶۵)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12901
وَعَنْهُ أَيْضًا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ علم اٹھ جائے گا،جہالت عام ہوجائے گی، مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں پر ایک ایک مرد نگران ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12901]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 81، ومسلم: 2671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11966»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۸۸)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 81
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12902
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ لوگوں پر بھرپور اور عام بارش نہیں برسے گی، لیکن زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12902]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 3418، و ابو يعلي: 3527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14093»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12903
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ، اللہ کہنا ختم نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12903]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 2207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13113»
وضاحت: فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ قیامت بدترین مخلوق پر قائم ہو گئی۔ امام طیبی نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جائے گا اور اس کی عبادت نہیںکی جائے گی، (اس وقت قیامت برپا ہو جائے گی)۔
مراد یہ ہے کہ توحید اور توحید کا اقرار کرنے والے ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر صرف شرک اور شرّ ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں