🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12885
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ وَيَكُونَ الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ وَتَكُونَ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ وَيَكُونَ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ وَتَكُونَ السَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعَفَةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ زمانہ اس قدرمختصر نہیں ہوجائے گا کہ ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک ہفتے کے برابر، ایک ہفتہ ایک دن کے برابر،ایک دن ایک گھڑی کے برابراور ایک گھڑی اس لمحے کے برابر ہو جائے گی، جس میں کھجور کا خشک پتہ جل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12885]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 6680، وابن حبان: 6842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10956»
وضاحت: فوائد: … اب وقت تیزی سے گزر رہا ہے، وقت میں واقعی بہت بے برکتی آ گئی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12886
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ“ قَالَ قَالُوا أَيُّمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْقَتْلُ الْقَتْلُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) وقت مختصر ہوجائے گا، کنجوسی عام ہوجائے گی، فتنے عام ہو جائیں گے اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مؤخر الذکر سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: قتل ہو گا، قتل۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12886]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7061، ومسلم: ص 2058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7186»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7061
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12887
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يَهِمَّ رَبُّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ قَالَ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَقْتَرِبُ الزَّمَانُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ“ قَالُوا الْهَرْجُ أَيُّمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْقَتْلُ الْقَتْلُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہوگی جب تمہارے اندر مال و دولت اس قدر عام ہوجائے گا کہ مال دار آدمی اس وجہ سے پریشان ہوجائے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا اور علم چھین لیا جائے گا، وقت مختصر ہوجائے گا، فتنے برپا ہوں گے اور ھَرْج عام ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا: قتل ہے، قتل۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12887]
تخریج الحدیث: «أخرج شطره الثاني البخاري: 6037، وأخرجه مقطعا مسلم: ص 70 و2058 و 2215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8120»
وضاحت: فوائد: … مال و دولت تو اب بھی بہت زیادہ ہے، لیکن ابھی تک صدقہ قبول کرنے والے فقراء و مساکین کی تعداد بھی خاصی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرج شطره الثاني البخاري: 6037
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12888
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ“ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْقَتْلُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم ہوگی جب علم چھین لیا جائے گا، فتنے نمودار ہوں گے اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12888]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7061، ومسلم: ص 2057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7480»
وضاحت: فوائد: … اب شرعی علم کا شدید فقدان ہے، بڑے بڑے اہل علم بہت جلد وفات پا رہے ہیں، اس وقت ہمارا زمانہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ کا مصداق بنا ہوا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ اِنْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ النَّاسِ، وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتّٰی اِذَا لَمْ یَتْرُکْ عَالِمًا، اِتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالًا فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوْا۔)) … بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گاکہ وہ اِس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح بخاری: ۱۰۰، صحیح مسلم: ۲۶۷۳)
اگر اِس دور کا سلف صالحین اور ان کے بعد والے دور سے موازنہ کیا جائے تو واضح طور پر علم شرعی کا شدید فقدان نظر آئے گا، قتل اور فتنوں کی کثرت کا معاملہ تو واضح ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ دنیوی تعلیم کی تمام صورتیں ایک فن ہیں، جو دنیا میں مختلف انداز میں معاون ثابت ہوتی ہیں، لیکن اس تعلیم سے تقوی، صالحیت اور اسلامی غیرت کے جذبات اور دین کی سمجھ حاصل نہیں ہوتی، بلکہ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اعلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غور فرمائیں
کہ ہمارے معاشرے میں انگریزی، ریاضی، کیمسٹری، کمپیوٹر، اردو اور دوسرے مضامین میں ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے حاملین موجود ہیں، لیکن اگر وہ فہم قرآن سے محروم ہیں، ترجمۂ قرآن سے دور ہیں، علم حدیث پر ان کو دسترس حاصل نہیں ہے، اسلامی فقہ کا ان کو تجربہ نہیں ہے، تو یہی کہا جائے گا کہ اس معاشرے میں شرعی علم کا فقدان ہے اور اس میں بسیرا کرنے والے جاہل ہیں، کیونکہ شریعت کی نگاہ میں اس چیز کو علم کہتے ہیں جو اعمال صالحہ کا سبب بنتا ہے۔
قارئین کرام! محسوس نہ کرنا، راقم الحروف کا ایسے ہزاروں افراد سے واسطہ پڑا، جو اعلی دنیوی تعلیم سے آراستہ ہیں، لیکن نماز جیسے فریضے سے کوسوں دور ہیں، قرآن مجید کی دیکھ کر بھی تلاوت نہیں کر سکتے، اہلیت ہونے کے باوجود میں کئی کئی ماہ قرآن مجید کھولنا ان کو نصیب نہیں ہوتا، لیکن اپنے آپ کو اتنا اہلیت والا سمجھتے ہیں کہ گویا ان کے بغیر دنیا بے آسرا ہو جائے گی۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو نماز کے وقت میں کسی یونیورسٹی اور اس میں تعمیر شدہ مسجد کاجائزہ لے لیں۔ شریعت میں ایسے معاشرے کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7061
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12889
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولَ يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ مَا بِهِ حُبُّ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوجائیں گے کہ ایک آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا: کاش میں اس کی جگہ پر ہوتا، یہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق کی وجہ سے نہیں ہو گا (بلکہ حالات کی سنگینی کی بنا پر ہو گا)۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12889]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7115، ومسلم: ص 2231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10878»
وضاحت: فوائد: … عصرِ حاضر میں بعض لوگ ایسی ایسی آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہیں کہ وہ موت کی تمنا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خوشحال لوگوں کو ان کی آزمائشوں کا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آدمی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس سے ملاقات کرنے کی بنا پر نہیں، بلکہ دنیوی آزمائشوں اور فتنوں کی وجہ سے موت کی تمنا کرے گا۔ لیکن اس حدیث سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ دین کی خاطر موت کی تمنا کی جا سکتی ہے، رہا مسئلہ اس حدیث مبارکہ کا کہ ((لَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدُکُمْ اَلْمُوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِہِ …۔)) … کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے …۔ کیونکہ یہ صورت دنیوی معاملے کے ساتھ خاص ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا:سلف کی ایک جماعت کے نزدیک فسادِ دین کے وقت موت کی تمنا کرنا ثابت ہے، اس سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی درج بالا حدیث کی تائید ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: ایسے وقت میں موت کی تمنا کرنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ کئی سلف صالحین نے ایسے کیا ہے، جیسا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ … (صحیحہ: ۵۷۸)
شیخ البانی کے دعوے کی تصدیق صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ سے ہوتی ہے: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَاتَذْھَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی یَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَی الْقَبْرِ فَیَتَمَرَّغُ عَلَیْہِ، وَیَقُوْلُ: یَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ مَکَانَ صَاحِبِ ھٰذَا الْقَبَرِ وَلَیْسَ بِہِ الدِّیْنُ اِلَّا الْبَلَائَ)) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے! اس وقت تک دنیا ختم نہیں ہو گی، جب تک ایسے نہ ہو گا کہ ایک آدمی ایک قبر کے پاس سے گزرے گا، اس پر لیٹے گا اور کہے گا: ہائے کاش! میں اس قبر والے کی جگہ پر ہوتا، اس کا موت کی تمنا کرنا دین کی بنا پر نہیں ہو گا، آزمائشوں کی وجہ سے ہو گا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7115
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12890
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَتْ صَنَمًا يَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دوس قبیلے کی عورتیں کے چوتڑ ذُوْالْخَلَصَۃ نامی بت کے گرد چکر لگاتے ہوئے حرکت نہیں کریں گے، یہ (یمن کے علاقے میں) تَبَالَہ کے مقام پر ایک بت تھا،دوس قبیلے کے لوگ اسلام سے قبل اس کی عبادت کیا کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12890]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7116، ومسلم: 2906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7663»
وضاحت: فوائد: … چوتڑ کی حرکت سے مراد اس بت کا طواف ہے، یعنی لوگ پھر سے کفریہ عقائد میںمبتلا ہو جائیں گے اور بتوں کی عبادت اور تعظیم شروع کر دیں گے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7116
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12891
وَعَنْهُ أَيْضًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِمَا أَخَذَتْ بِهِ الْأُمَمُ وَالْقُرُونُ قَبْلَهَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ“، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَهَلِ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک میری امت ہو بہو پہلی امتوں اور لوگوں والے کام نہیں کرے گی؟ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جس طرح فارسی اور رومی لوگوں کے کام تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے مراد ہی یہی لوگ ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12891]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8414»
وضاحت: فوائد: … یعنی امت ِ مسلمہ کے لوگ دوسرے مذاہب کی نقالی شروع کر دیں گے، اب کئی امور میں واقعی دوسروں کی نقالی کی جا رہی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7319
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12892
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ، وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ“، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”الْقَتْلُ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی, جب تک عربوں کی سر زمین سبزہ زاروں اور نہروں کی صورت اختیار نہیں کر لے گی اور جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ عراق سے مکہ تک سفر کرنے والے کو صرف راستہ بھول جانے کا ڈر ہو گا اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12892]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرج القطعة الاولي الحاكم: 4/ 477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8819»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جزیرۂ عرب کے بعض علاقوں میں اس حدیث ِ مبارکہ میں کی گئی پیشینگوئی کے آثار و علامات دکھائی دینے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خیرات و برکات کے نزول کے کئی مناظر نظر آ رہے ہیں، مختلف آلات کے ذریعے صحرائی زمین سے آبپاشی کے لیے پانی نکالا جا رہا ہے۔ بعض مقامی اخبار میں یہ بات بھی شائع ہوئی تھی کہ فرات کا رخ جزیرۂ عرب کی طرف موڑنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، ممکن ہے کہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے۔
مولانا مودودی کہتے ہیں: تبوک کے محکمہ شرعیہ کے رئیس شیخ صالح نے بتایا کہ یہ چشمہ دو سال پہلے تک پونے چودہ سو سال سے مسلسل ابلتا رہا، بعد میں نشیبی علاقوں میں ٹیوب ویل کھودے گئے تو اس چشمے کا پانی ان ٹیوب ویلز کی طرف منتقل ہو گیا۔ تقریباً پچیس ٹیوب ویلز میں تقسیم ہو جانے کے بعد اب یہ چشمہ خشک ہو گیا ہے، اس کے بعد شیخ صالح ہمیں ایک ٹیوب ویل کی طرف بھی لے گئے، جہاں ہم نے دیکھا کہ چار انچ کا ایک پائپ لگا ہوا ہے اور کسی مشین کے بغیر اس سے پانی پورے زور سے نکل رہا ہے، قریب قریب یہی کیفیت دوسرے ٹیوب ویلز کی بھی ہمیں بتائی گئی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے ہی کی برکت ہے، آج تبوک میں اس کثرت سے پانی موجود ہے، کہ مدینہ اور خیبر کے سوا ہمیں کہیں اتنا پانی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تبوک کا پانی ان دونوں جگہوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس پانی سے فائدہ اٹھا کر اب تبوک میں ہر طرف باغ لگائے جا رہے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تبوک کا علاقہ باغوں سے بھرا ہوا ہے اور دن بدن بھرتا جا رہا ہے۔ (سفرنامہ ارض قرآن)

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12893
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَفِيضَ فِيكُمُ الْمَالُ، وَحَتَّى يَهُمَّ الرَّجُلُ بِمَالِهِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ حِينَ يَتَصَدَّقُ بِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي يُعْرَضُ عَلَيْهِ: لَا أَرْبَ لِي بِهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ تمہارے اندر مال و دولت کی اس قدرفراوانی نہ ہوجائے گی کہ مال دار آدمی صدقہ کرتے وقت پریشان ہوگا کہ وہ کسے دے، اور وہ جسے دے گا، وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12893]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1412، 7121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10874»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1412
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12894
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو بڑے گرہوں کے درمیان بڑی جنگ نہ ہو جائے اور دونوں کا دعوی بھی ایک ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12894]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6935، 7121، ومسلم: ص 2214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10876»
وضاحت: فوائد: … ان دو گروہوں سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ان دو گروہوں کے درمیان جنگ صفین ہوئی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے ان دو گروہوں کے درمیان صلح ہو گئی تھی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6935
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں