الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. تعظيمُ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَآمَارَاتُ خُرُوجِهِ
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 12971
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ”لَأَنَا لَفِتْنَةُ بَعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبْلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا، وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دجال کے فتنے کی بہ نسبت تمہارے آپس کے فتنوں یعنی لڑائی جھگڑوں کا زیادہ خطرہ محسوس کرتا ہوں، اور (سنو کہ) جب سے دنیا قائم ہے، اس وقت سے جتنے چھوٹے بڑے فتنے ظہور پذیر ہوئے، وہ سارے کے سارے فتنۂ دجال کی خاطر ہی تھے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12971]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 2807، 2808، وابن حبان: 6807، والطبراني في الكبير: 3018، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23693»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کو متاثر کرنے والے بعض فتنوں کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے، مثال کے طور پر: زبان کا فتنہ، منافقوں کا فتنہ، دنیوی مال و دولت کا فتنہ، ریاکاری کا فتنہ۔
درج ذیل حدیث پر غور کریں، جس میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے فتنے کو دجال سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے:
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا إِلَی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَی أُمَّتِی مِنْ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَیُّ شَیْء ٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنْ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) … ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں دجال کی بہ نسبت باقی فتنوں کا ڈر زیادہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے والے ہیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو دجال کی بہ نسبت کس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ڈر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمران۔ (مسند احمد: ۵/ ۱۴۵)
اصل بات یہ ہے کہ مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی، ریاکاری اور گمراہ حکمرانوں جیسی آزمائشوں کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہو گا۔
درج ذیل حدیث پر غور کریں، جس میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے فتنے کو دجال سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے:
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا إِلَی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَی أُمَّتِی مِنْ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَیُّ شَیْء ٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنْ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) … ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں دجال کی بہ نسبت باقی فتنوں کا ڈر زیادہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے والے ہیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو دجال کی بہ نسبت کس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ڈر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمران۔ (مسند احمد: ۵/ ۱۴۵)
اصل بات یہ ہے کہ مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی، ریاکاری اور گمراہ حکمرانوں جیسی آزمائشوں کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12972
عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فِتْنَةٌ أَكْبَرُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ“
سیدنا ہشام بن عامرانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر قیامت کے قائم ہونے تک کوئی ایسا فتنہ ظاہر نہیں ہوا، جو دجال کے فتنے سے زیادہ سنگین ہو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12972]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2946، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16373»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12973
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”وَاللَّهِ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَعْظَمُ مِنَ الدَّجَّالِ“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تخلیقِ آدم سے قیامت تک کوئی معاملہ دجال سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12973]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16363»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12974
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی ایسا فتنہ رونما ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو فتنۂ دجال سے زیادہ سنگین ہو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12974]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14158»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12975
عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ اصْطَخْرُ نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ، قَالَ: فَلَقِيَهُمُ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَوْلَا مَا تَقُولُونَ لَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ، وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ“
راشد بن سعد کہتے ہیں: جب اصطخر فتح ہوا، تو ایک مُنادِی نے یہ آواز دی: خبردار! دجال کا ظہور ہوچکا ہے، یہ سن کر سیدنا مصعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو جاکرملے اور کہا:جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ایسا اگر نہ ہوتا تو میں تمہیں بتلاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ لوگ اس کے ذکر سے مکمل طور پر غافل ہوجائیں اور ائمہ یعنی خطباء حضرات منبروں پر اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12975]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، راشد بن سعد المقرائي الحمصي لم يدرك الصعب بن جثامة، وبقية بن الوليد يدلس ويسوي، ومثله يحتاج الي التصريح في جميع طبقات الاسناد، ثم انه انفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16788»
الحكم على الحديث: ضعیف