الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 12988
وَعَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَشْبَهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أَلَسْتُ أُحْيِي وَأُمِيتُ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ كَذَبْتَ مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ فَيَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَلَا يُوذَنُ لَهُ فِيهَا فَيَقُولُ هَذَا قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ“
مولائے رسول سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ سے قبل جو نبی بھی آیا، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، وہ بائیں کانی آنکھ والا ہوگا اور اس کی دائیں آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِر کا لفظ لکھا ہوگا، اس کے پاس دو وادیاں ہوں گی، ایک اس کی جنت اور دوسری اس کی جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم درحقیقت جنت اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے، جو دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بیان کرسکتا ہوں، ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف، یہ بھی ایک آزمائش ہوگی، دجال لوگوں سے کہے گا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندہ کرنے اور مارنے پر قادر نہیں ہوں؟ ایک فرشتہ کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس بات کو صرف دوسرا فرشتہ ہی سن سکے گا، لوگوں میں سے کوئی نہیں سنے گا، اس کی بات سن کر دوسرا فرشتہ کہے گا: تو نے سچ کہا، اس بات کولوگ سنیں گے تو سہی، لیکن وہ سمجھیں گے کہ وہ فرشتہ دجال کی بات کی تصدیق کر رہا ہے، یہ بھی لوگوں کے لیے ایک آزمائش ہوگی، پھر دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، لیکن اسے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، وہ کہے گا کہ یہ تو اس آدمی کا شہر ہے، پھر وہ وہاں سے چلے گا اور شام کی سرزمین میں پہنچ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہاں اَفِیْق کی گھاٹی میں ہلاک کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12988]
تخریج الحدیث: «ضعيف بھذه السياقة، تفرد به حشرج بن نباتة عن سعيد بن جمھان، وقد اشار بعض اھل العلم الي انه يقع لھما في احاديثھما غرائب ومناكير، وقد وقع لھما شيء من ھذا في ھذا الحديث، أخرجه الطيالسي: 1106، وابن ابي شيبة: 15/ 137، والطبراني في الكبير: 6445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22275»
الحكم على الحديث:
ضعيف بھذه السياقة
حدیث نمبر: 12989
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الدَّجَّالِ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ مُصَدَّقًا قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَنْذَرْتُكُمُ الدَّجَّالَ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيُّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ وَمَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يَنْبُتُ الشَّجَرُ وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ وَلَا يَقْرُبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ الطُّورِ وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَمَا يَشْبَهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
جنادہ بن ابی امیہ ازدی کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری شخص، ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے کہا:آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے متعلق سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، آپ نے کسی اور سے بیان نہیں کرنا، اگرچہ وہ تصدیق شدہ ہو، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: میں تمہیں دجال سے با خبر کر چکاہو، یہ جملہ تین دفعہ فرمایا، مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، لیکن اے میری امت! وہ تم میں نکلے گا، اس کے بال گھنگریالے اور اس کا رنگ گندمی ہو گا اور اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، اس کے پاس ایک جنت ہو گی اور ایک جہنم۔ لیکن حقیقت میں اس کی جہنم،جنت ہو گی اور اس کی جنت،جہنم ہوگی۔ اس کے پاس روٹیوں کا ایک پہاڑ ہوگا اور پانی کی ایک نہرہوگی، وہ بارش برسا کر دکھائے گا، لیکن اس سے درخت نہیں اگیں گے، اسے ایک آدمی کو قتل کرنے کی طاقت دی جائے گی، اس کے سوا اس کو اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی، وہ زمین میں چالیس دن گزارے گا اور ہر ہر جگہ پہنچے گا، البتہ اِن چار مساجد کے قریب نہیں جا سکے گا: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ۔ وہ تمہیں جتنے شبہات میں بھی ڈال دے، تم یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12989]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24084»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12990
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ ”وَيُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ“
۔ (دوسری سند) اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ اس طرح ہیں: دجال کو ایک آدمی پر اس طرح مسلط کیا جائے گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکے گا، اس کے بعد اسے اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12990]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24083»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24083
حدیث نمبر: 12991
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ أَوْ قَالَ كُفْرٌ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا،اس کی اس آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی اور اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یا کُفْرٌ۔ لکھا ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12991]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابويعلي: 3768، والبغوي: 4257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12169»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12992
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”الدَّجَّالُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کانا ہو گا اور تمہارا ربّ کانا نہیں ہے، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12992]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13418»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اپنی آنکھوں کے بارے میں فرمایا: {وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔} … اللہ کے حکم کے مطابق صبر کر، بلا شبہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ (سورۂ طور: ۴۸)
ہم اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عین (آنکھ) کو تسلیم کرتے ہیں، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، جیسا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ایمان ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عین (آنکھ) کو تسلیم کرتے ہیں، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، جیسا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ایمان ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13418
حدیث نمبر: 12993
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَصَفَ الدَّجَّالَ لِأُمَّتِهِ وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو متنبہ کرنے کے لیے دجال کی صفات بیان کیں، لیکن میں اس کی ایسی صفت بیان کروں گا، جو کسی نبی نے بیان کی اور وہ یہ ہے کہ وہ کانا ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12993]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابو يعلي: 725، والبزار: 1108، وابن ابي شيبة: 15/ 128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1578»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12994
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ تَمَامًا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ”لَيْسَ بِأَعْوَرَ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ انھوں نے وہ کانا ہے کے الفاظ کے بعد یہ اضافی الفاظ بیان کیے ہیں: اس کی دائیں آنکھ یوں ہوگی، جیسے خوشۂ انگور میں ابھرا ہوا دانہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12994]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3439، 7407، ومسلم: ص 2248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4804»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3439
حدیث نمبر: 12995
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ ”إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَوْمَهُ وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑ ے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے شایان شان حمد و ثنا بیان کی اور پھرفرمایا: میں تمہیں اُس دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا، حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تم سے اس کے متعلق ایسی بات بتلاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں کہی، تمہیں علم ہونا چاہیے کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3057، ومسلم: 2931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6365»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3057
حدیث نمبر: 12996
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ وَإِنِّي أُنْذِرْكُمُوهُ“ قَالَ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”وَلَعَلَّهُ يُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ قَالَ ”أَوْ خَيْرٌ“
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے خبردا رکیا اور میں بھی تمہیں اس سے باخبر کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ہوئے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری بات سننے والا کوئی آدمی بھی اسے پا لے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی جیسے آج کل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اس سے بہتر؟ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12996]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابوداود: 4756، والترمذي: 2234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1693»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی جسمانی آزمائشوں کی پروا کیے بغیر اور دجال کے شعبدوں کو جھٹلاتے ہوئے فتنۂ دجال کا مقابلہ کر کے اپنے دین پر برقرار رہے گا، وہ راسخ الایمان ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 12997
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ ”أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَأَمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ“ قَالَ شُعْبَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ قَتَادَةَ فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا: وہ کانا ہو گا،اس کا رنگ چمکیلا سفید ہوگا، اس کا سر پھونک سے مار ڈالنے والے زہریلے سانپ کی طرح ہو گا، وہ لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے زیادہ مشابہ ہوگا،اگر (اس کے شبہات کی وجہ سے) ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہی حدیث امام قتادہ کو بیان کی تو انہوں نے بھی مجھے ایسی ہی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12997]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 11711، والطيالسي: 2678، وابن حبان: 6796، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2148»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره