🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12998
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ يَعْنِي الدَّجَّالَ“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال (لوگوں کی طرح) کھانا کھائے گا اور) بازاروں میں چلے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12998]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن جدعان، والحسن البصري لم يسمع من عمران، أخرجه البزار: 3574، والطبراني في الكبير: 18/ 339، والطبراني في الاوسط: 8150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20235»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12999
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهَا رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ أَوِ الْمَسِيحُ بْنُ مَرْيَمَ وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى جَعْدَ الرَّأْسِ أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنَ قَطَنٍ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کعبہ کے دروازے کے قریب ایک آدمی دیکھا، اس کی رنگت گندمی، سر کے بال قدرے خمدار، دو آدمیوں پر اپنا ہاتھ رکھے ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟فرشتوں نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھرمیں نے ان کے پیچھے ایک اور آدمی کو دیکھا، وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کے سر کے بال گھنگریالے تھے، میں نے جو لوگ دیکھے ہیں ان میں ابن قطن اس سے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12999]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4977»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 169
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13000
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ مَا تَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ وَلَكِنْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي“
مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑ دیا اورکہا: اس کی آنکھوں کے درمیانی یعنی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اگر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور گھنگریالے بالوں والے تھے، میں دیکھتا ہوں کہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی وہ مہار والے ایک سرخ اونٹ پر سوار تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13000]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1555، 5913، ومسلم: 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2501»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1555
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13001
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا، إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْزَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ“ قَالَ يَزِيدُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : ”رَبُّكُمْ، فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَمُوتُوا“ قَالَ يَزِيدُ: ”تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں کو دجال کے متعلق بتا تو چکا ہوں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے پہچان ہی نہ سکو۔ (یاد رکھنا کہ) مسیح دجال پست قامت ہوگا، اس کے پیروں کا اگلا حصہ قریب اور ایڑیاں دور ہوں گی،اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ اس طرح مٹی ہوئی ہوگی کہ وہ نہ تو ابھری ہوئی ہوگی اور نہ اندر کو دھنسی ہوئی، اگر پھر بھی معاملہ تم پر خلط ملط ہونے لگے تو جان لو کہ تمہارا ربّ کانا بھی نہیں ہے اور تم مرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13001]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بقية الوليد، أخرجه ابوداود: 4320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23144»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بقية الوليد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں