الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. فَصْلٌ فِي نُزُولِ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ وَقَتْلِهِ الدَّجَّالَ وَعَدْلِهِ بَيْنَ النَّاسِ وَمَكْثِهِ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13016
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلًا مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأَسْوَدُ مَعَ الْإِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبُ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ“ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ”وَيَدْفُنُونَهُ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیا علاتی بھائی ہیں، (یعنی ان کا باپ ایک ہے اور) مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور وہ (میری امت میں) اترنے والے ہیں۔ تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا، وہ درمیانے قد کے ہیں، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل ہے، وہ دو سوتی چادروں میں ملبوس ہوں گے، جب وہ اتریں گے تو ایسے لگیں گے کہ گویا کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، اگرچہ ان کو گیلا نہیں کیا ہو گا، وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ (کا تصور) ختم ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ تمام (باطل) مذاہب کو نیست و نابود کر دے گا اور مسیح دجال کو بھی ہلاک کر دے گا۔ اور (ان کے زمانے میں) زمین میں اتنا امن ہو گا کہ سانپ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، حضرت عیسی علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام کرنے کے بعد فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر ان کو دفن کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13016]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4324، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9259»
وضاحت: فوائد: … علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں، جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے اصول کو باپ سے اور دین کی فروعات کو ماؤں سے تشبیہ دی، یعنی انبیاء و رسل کے ادیان کے اصول یکساں تھے، البتہ شریعت کی فروعات مختلف ہوتی تھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13017
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”الْأَنْبِيَاءُ“ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ”حَتَّى يَهْلِكَ فِي زَمَانِهِ مَسِيحُ الضَّلَالَةِ الْأَعْوَرُ الْكَذَّابُ“
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی پہلی سند والی حدیث کے ہم معنی ہی ہے، البتہ اس میں ہے: ان کے زمانے میں گمراہی والا کانا اور جھوٹا مسیح ہلاک ہوجائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13017]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2575، وابن حبان: 6814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9631»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13018
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ أَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَمْحُو الصَّلِيبَ وَتُجْمَعُ لَهُ الصَّلَاةُ وَيُعْطِي الْمَالَ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ وَيَضَعُ الْخِرَاجَ وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاءَ وَيَحُجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ أَوْ يَجْمَعُهُمَا“ قَالَ وَتَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا} فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ عِيسَى فَلَا أَدْرِي هَذَا كُلُّهُ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، صلیب کو مٹا دیں گے، ان کی آمد پر نماز با جماعت اداکی جائے گی، وہ لوگوں میں اس قدر مال و دولت تقسیم کریں گے کہ بالآخر کوئی مال قبول نہیں کرے گا، وہ جزیہ کو ختم کر دیں گے اور وہ روحاء مقام پر اتر کر وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھ کر روانہ ہوں گے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔}(سورۂ نساء: ۱۵۹) (اور تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے)۔ حنظلہ کا خیال ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس طرح کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے، اب میں نہیں جانتا کہ یہ سارے الفاظ حدیث نبوی کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13018]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مسلم مختصرا بذكر الاھلال للحج او العمرة: 1252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7890»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13019
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابن مریم علیہ السلام روحاء کے کشادہ راستے سے حج یا عمرے یا دونوں کا تلبیہ کہیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13019]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7271»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ عیسی علیہ السلام حج و عمرہ کی ادائیگی بھی کریں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13020
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمُرٌ أَنْ أَلْقَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امیدہے کہ اگر میری عمرطویل ہوئی تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے میری ملاقات ہوجائے گی اور اگر میری موت جلدی آ گئی تو تم میں سے جس کی ان سے ملاقات ہو، وہ انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13020]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7957»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13021
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ الْمَسِيحُ بْنُ مَرْيَمَ أَنْ يَنْزِلَ حَكَمًا قِسْطًا وَإِمَامًا عَدْلًا فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَتَكُونُ الدَّعْوَةُ وَاحِدَةً، فَأَقْرِئُوهُ أَوْ أَقْرِئْهُ السَّلَامَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَأُحَدِّثُهُ فَيُصَدِّقُنِي، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ أَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب مسیح بن مریم علیہ السلام ایک عادل اور منصف حکمران کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، وہ خنزیر کو قتل کر دیں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور دین ایک ہوجائے گا، تم انہیں رسول اللہ کا سلام پہنچا دینا، اگر یہ ہوا کہ میں ان سے گفتگو کروں تو وہ میری تصدیق کریں گے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دینا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13021]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، والمرفوع منه صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9110»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13022
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (وَفِي لَفْظٍ) فَأَمَّكُمْ أَوْ قَالَ إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 13022]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3449، ومسلم: 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7666»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۰۴۱۸)والا اور اس سے پہلے باب ملاحظہ ہو، عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ضروری تفصیل اس باب میں گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح