🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. الْخَسْفُ وَكَثرَةُ الصَّوَاعِقِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13049
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَحَّارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَيُقَالُ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ“، قَالَ: فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ قَبَائِلَ أَنَّهَا الْعَرَبُ، لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا
سیدنا صحار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کئی قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا، (جب ایک قبیلہ کو دھنسایا جائے گا تو) پوچھا جائے گا کہ بنو فلاں میں سے کون کون بچا ہے؟ سیدنا صحار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبائل کا ذکر کیا تو میں پہچان گیا کہ یہ عرب لوگ ہوں گے، کیونکہ عجمی لوگوں کو تو بستیوں کاطرف منسوب کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13049]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن صُحار مجھول أخرجه ابويعلي: 6834، والبزار: 3403، والطبراني في الكبير: 7404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16052»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13050
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ بُقَيْرَةَ امْرَأَةَ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: ”إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا، فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ“
قعقاع بن ابی حدرد کی اہلیہ سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: تم جب سنو کہ تمہارے قریب کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے، تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13050]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق، وان صرح بسماعه من محمد بن ابراهيم التيمي عند الحميدي، الا انه تفرد به، وفي بعض ما تفرد به نكارة، ثم انه اختلف عليه فيه، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 225، والحميدي: 351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27670»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13051
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ إِنِّي لَجَالِسَةٌ فِي صُفَّةِ النِّسَاءِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَقَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا سَمِعْتُمْ يُخْسَفُ هَاهُنَا قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ“
۔ (دوسری سند) سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں عورتوں والے حصے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: لوگو! تم جب سنو کہ یہاں قریب ہی کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13051]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27671»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27671
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13052
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا ”إِنَّ السَّاعَةَ لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّةُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرْحِلُ النَّاسَ“ الحَدِيثَ
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہ دس علامتیں نہیں دیکھ لو گے:مشرق میں دھنسنا، مغرب میں دھنسنا، جریرۂ عرب میں دھنسنا، دھواں، دجال، چوپایہ، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، یا جوج و ماجوج اور عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ، جو لوگوں کو اپنے آگے آگے ہانک کر لے جائے گی، … …۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13052]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2901، وابوداود!: 4311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16244»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13053
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَيَقُولُ مَنْ صَعِقَ مِنْكُمُ الْغَدَاةَ فَيَقُولُونَ صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب بے ہوشیاں بہت زیادہ ہوں گی، یہاں تک کہ ایک آدمی لوگوں کے پاس آکر پوچھے گا: آج صبح تم میں سے کون کون بے ہوش ہوا ہے؟ وہ بتائیں گے کہ فلاں فلاں بیہوش ہوئے ہیں۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13053]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11643»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں