الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. الْخَسْفُ وَكَثرَةُ الصَّوَاعِقِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
حدیث نمبر: 13049
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَحَّارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَيُقَالُ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ“، قَالَ: فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ قَبَائِلَ أَنَّهَا الْعَرَبُ، لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا
سیدنا صحار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کئی قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا، (جب ایک قبیلہ کو دھنسایا جائے گا تو) پوچھا جائے گا کہ بنو فلاں میں سے کون کون بچا ہے؟ سیدنا صحار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبائل کا ذکر کیا تو میں پہچان گیا کہ یہ عرب لوگ ہوں گے، کیونکہ عجمی لوگوں کو تو بستیوں کاطرف منسوب کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13049]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن صُحار مجھول أخرجه ابويعلي: 6834، والبزار: 3403، والطبراني في الكبير: 7404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16052»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13049 in Urdu