🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. عُمُقهَا وَأَوْدِيَتهَا وَآلَاتُ الْعَذَابِ فِيهَا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْهَا
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13206
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ أَنَّ رَصَّاصَةً مِثْلَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ جُمْجُمَةٍ أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الْأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ أَصْلَهَا أَوْ قَعْرَهَا“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین و آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اس کے باوجود اگر ایک بڑے پیالے یا کھوپڑی کے برابر پتھر آسمان سے زمین کی طرف گرایا جائے تو وہ رات ہونے سے پہلے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا،لیکن اگر اسے زنجیر کے ایک سرے سے نیچے کی طرف گرایا جائے تو وہ اس کی اصل یا تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس برسوں تک چلتا رہے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13206]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6856»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13207
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَسَمِعْنَا وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتَدْرُونَ مَا هَذَا“ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”هَذَا حَجَرٌ أُرْسِلَ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے کسی چیز کے گرنے کی دھمک سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہویہ کس چیز کی آواز ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: یہ ایک پتھر کی آواز ہے، جسے آج سے ستر سال پہلے جہنم کے اندر ڈالا گیا تھا، وہ اب اس کی تہہ تک پہنچا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13207]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8826»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2844
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13208
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”وَيْلٌ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ وَالصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَصْعَدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا يَهْوِي بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی ایک وادی کا نام ویل ہے، اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے کافر اس میں چالیس برس گرتا رہے گا، اسی طرح جہنم میں آگے کے ایک پہاڑ کا نام صَعُوْد ہے۔ اس پر چڑھنے والا ستر سال میں اس پر چڑھتا ہے،پھر وہ اتنے ہی عرصے میں اس سے نیچے گرتا رہتا ہے، اور اس کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13208]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابن لھيعة، ولضعف دراج بن سمعان، أخرجه ابويعلي: 1379، وابن حبان: 309، والطبران في الاوسط: 5177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11735»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13209
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَوْ أَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِيدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَهُ الثَّقَلَانِ مَا أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کا ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے اورتمام جن و انس اسے اٹھانے کے لیے جمع ہو جائیں، تو پھر بھی وہ اس کو نہیں اٹھا سکیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13209]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه الحاكم: 4/ 598، وابويعلي: 11232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11253»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13210
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِقَمْعٍ مِنْ حَدِيدٍ لَتَفَتَّتَ ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ وَلَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَقٍ يُهْرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کے گرز کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے، وہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں لوٹ آئے گا اور اگر جہنمیوں کی پیپ اور خون سے بھرا ہوا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو ساری دنیا والے بد بو کی اذیت سے بے چین ہوجائیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13210]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، علته دراج بن سمعان، فانه ضعيف في روايته عن ابي الھيثم، لكن قوله ولو ان دلوا من غساق حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 1377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11808»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13211
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوكَفَةِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ سَنَةً“
سیدنا عبد اللہ بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے سانپ ہیں، جب ان میں سے ایک سانپ ایک دفعہ ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی زہر کی شدت محسوس کرے گا اور جہنم میں پالان والے خچروں کی جسامت کے بچھو ہوں گے، جب ان میں سے کوئی بچھو ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی تکلیف محسوس کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13211]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دراج بن سمعان ضعّفه غير واحد من الائمة، أخرجه ابن حبان: 7471، والحاكم: 4/ 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17864»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو اتنا غافل نہیں ہو جانا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ جنت کا سوال نہ کرے اور جہنم سے پناہ نہ مانگے۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ آمِیْن۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں