الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. سِعَتُهَا وَجُدْرَانَهَا
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
حدیث نمبر: 13212
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِ قُلْتُ أَنْهَارًا قَالَ لَا بَلْ أَوْدِيَةً ثُمَّ قَالَ أَتَرَوْنَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ {وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”هُمْ عَلَى جَسْرِ جَهَنَّمَ“
مجاہد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: آیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: واقعی ہم یہ نہیں جانتے، بہرحال (وہ اس قدر وسیع ضرور ہے کہ) ایک جہنمی کے کان کی لو اورکندھے کے درمیان ستر برس کی مسافت ہوگی، اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہتی ہوں گی۔ میں نے کہا: پیپ اور خون کی نہریں؟ انھوں نے کہا: نہریں نہیں، وادیاں وادیاں،پھر انھوں نے کہا: کیا جانتے ہو جہنم کس قدر فراخ ہوگی؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: واقعی ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قدر فراخ ہے؟ البتہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں پوچھا تھا: {وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ} (اور قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان بھی اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے) (سورۂ زمر: ۶۷) اے اللہ کے رسول! اس تبدیلی کے وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم کے پل صراط پر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13212]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه بتمامه ومختصرا الترمذي: 3241، والنسائي في الكبري: 11453، والحاكم: 2/ 436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25368»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اگر جہنم کے پل صراط پر ساری مخلوق ٹھہر سکتی ہے تو اس سے جہنم کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح أخرجه بتمامه ومختصرا الترمذي: 3241
حدیث نمبر: 13213
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”لَسُرَادِقُ النَّارِ أَرْبَعُ جُدُرٍ كَثَافَةُ كُلِّ جِدَارٍ مِثْلُ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کو چاروں طرف سے گھیرنے والی دیواریں چار ہیں، ہر دیوار کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13213]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه الترمذي: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11254»
وضاحت: فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سہارا لیتے ہوئے اس جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم