الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. نَعِيمُ الْجَنَّةِ وَقَوْلُهُ ﷺ «فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ» اِلَخْ
جنت کی نعمتوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
حدیث نمبر: 13265
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ أَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: شَهِدْتُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى ثُمَّ قَالَ آخِرَ حَدِيثِهِ فِيهَا ”مَا لَعَيْنٍ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ“ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: 16،17]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک محفل میں حاضر تھا، آپ نے جنت کا تذکرہ کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا: جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا،کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔} (ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے ربّ کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، اس میں سے وہ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی راحت کے لیے ان کے کیے ہوئے اعمال کی جزاء کے طور پر جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، ان کو فی الحال کوئی بھی نہیں جانتا۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13265]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23214»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2825
حدیث نمبر: 13266
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ فِي الْجَنَّةِ مَا لَعَيْنٍ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال رہے گا، بدحال نہیں ہو گا، اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے، اس کی جوانی زائل نہیں ہوگی، جنت میں وہ کچھ ہے کہ آج تک نہ کسی آنکھ نے وہ چیزیں دیکھیں ہیں، نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی شخص کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13266]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2836، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8813»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2836
حدیث نمبر: 13267
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَعَيْنٍ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17] “
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کی ہیں کہ آج تک کسی آنکھ نے ان جیسی نعمتوں کو نہیں دیکھا، کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور کسی انسان کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا، اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو: {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ} (ان کی راحت کے لیے جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، انہیں(فی الحال) کوئی نہیں جانتا۔ (سورۂ سجدہ: ۱۷) [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13267]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3244، 4779، ومسلم: 2824، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9647»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3244
حدیث نمبر: 13268
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْلَى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”قِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا وَلَنَصِيفُ امْرَأَةِ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا“ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا النَّصِيفُ؟ قَالَ: الْخِمَارُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دوگنا دنیا سے بہتر ہے، جنت میں تمہاری کمان کے برابر جگہ دو گنا دنیا سے بہتر ہے اور جنت کی ایک خاتون کا دوپٹہ دو گنا دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔ ابو ایوب کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوہریرہ! النَّصِیْف کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: دو پٹہ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13268]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10275»
وضاحت: فوائد: … دنیا اور جنت کی نعمتوں میں صرف نام کی مماثلت ہے، مثال کے طور پر دنیا میں پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہتے ہیں اور جنت میں بھی پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہیں گے، لیکن اُس سیب کی حقیقت کا ادراک جنت میں پہنچنے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره