الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. صِفَةً بِنَائِهَا وَتُرْبَتِهَا وَغُرَفِهَا وَخِيَامِهَا
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13269
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ: ”لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں جنت کے بارے میں بتلائیں کہ اس کی عمارت کیسی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہو گی، اس کا گارا انتہائی تیز مہکنے والی کستور ی کا اور اس کے کنکر لولو اور یاقوت کے موتی ہوں گے اور اس کی مٹی زعفران ہوگی، جوآدمی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال ہو گا، کبھی بدحال نہیں ہو گا، وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی، اس کا لباس بوسیدہ نہیں ہو گا اور اس کا شباب زائل نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13269]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده، أخرجه الترمذي: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8030»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 13270
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”صَدَقَ“
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13270]
تخریج الحدیث: «أخرجه 2928مسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11015»
الحكم على الحديث:
أخرجه 2928مسلم:
حدیث نمبر: 13271
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْيَهُودِ: ”إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ“ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: هِيَ خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الْخُبْزَةُ مِنَ الدَّرْمَكِ“
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودکے بارے میں فرمایا: میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کرتا ہوں جو کہ سفید رنگ کی ملائم مٹی ہے۔ پھر ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! وہ روٹی کی طرح ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روٹی بھی سفید آٹے کی ہی ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13271]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14944»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 13272
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ“ قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرَقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والے ہر جگہ سے اپنے کمروں کو یوں دیکھیں گے، جیسے تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ابو حازم نے کہا: میں نے حدیث نعمان بن ابی عیاش کو بیان کی، انھوں نے کہا کہ اس نے بھی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے یوں سنا ہے: جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق پر دمکتے ہوئے تارے کو دیکھتے ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13272]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3256، ومسلم: 2830، 2831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23264»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3256
حدیث نمبر: 13273
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى بُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا وَظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا“ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ هِيَ؟ قَالَ: ”لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ باہر سے ان کے اندر کاماحول اور اندر سے ان کے باہر کا ماحول دیکھا جاسکے گا۔ ایک بدّو نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھی بات کرے، دوسروں کو کھانا کھلائے اور جب رات کو عام لوگ سوئے ہوئے ہوں تو وہ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے لیے نماز ادا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13273]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1984، 2527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1338»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 13274
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا لِلْمُؤْمِنِ أَهْلٌ لَا يَرَاهُمُ الْآخَرُونَ“ وَرُبَمَا قَالَ عَفَّانُ: لِكُلِّ زَاوِيَةٍ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک خیمہ بہت بڑا موتی ہوگا، وہ اندر سے خالی ہوگا، اس کی بلندی ساٹھ میل ہوگی، اس کے ہر کونے میں مومن کا اہل خانہ ہو گا، لیکن (وہ دوری کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13274]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3243، ومسلم: 2838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19805»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3243
حدیث نمبر: 13275
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ فِي الْجَنَّةِ كَمَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے کے دو پٹوں میں چالیس سال کی مسافت جتنی وسعت ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13275]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11259»
وضاحت: فوائد: … اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جنت اور جنت کی نعمتیں اس قد رخوبصورت، دل آویز، خوشنما اور قیمتی ہوں گی کہ دنیا میں ان کا تصور ہی محال ہے، جنت کی عمارات اور مکانات کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہوگی، ان میں اعلیٰ قسم کی کستوری کو گارے کے طور پر استعمال کیا جائے گا، وہاں انتہائی قیمتی موتی اور یاقوت کنکر کی مانند ہوں گے اور مٹی کے طور پر زعفران ہوگا، وہاں کسی قسم کا غم و اندوہ نہیں ہوگا، ہمیشہ کی زندگی ہوگی، کسی کو موت نہیں آئے گی، لباس پرانا یا بوسیدہ نہیں ہو گا، بھر پور شباب رہے گا، جو کبھی زائل نہیں ہوگا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح