سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
10. قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 185 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 185
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْحَسَنِ، فَسَأَلَهُ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلائِكَةِ: وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ سورة البقرة آية 33، مَا الَّذِي كَتَمَتِ الْمَلائِكَةُ؟، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ، رَأَتِ الْمَلائِكَةُ خَلْقًا عَجَبًا، فَكَأَنَّهُمْ دَخَلَهُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، ثُمَّ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَأَسَرُّوا ذَلِكَ بَيْنَهُمْ، فَقَالُوا: وَمَا يَهُمُّكُمْ مِنْ أَمْرِ هَذَا الْمَخْلُوقِ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لا يَخْلُقُ خَلْقًا إِلا كُنَّا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنْهُ" .
مہدی بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس تھے، تو حسن بن دینار نے ان سے سوال کیا: اے ابو سعید! اللہ عزوجل کا فرشتوں سے فرمان: ﴿وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ﴾ (اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے تھے)، تو فرشتوں نے کیا چیز چھپائی تھی؟ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو فرشتوں نے ایک حیرت انگیز مخلوق دیکھی، تو ان کے دلوں میں کچھ خیال پیدا ہوا۔ پھر وہ آپس میں سرگوشی کرنے لگے اور کہنے لگے: ”تمہے اس مخلوق کے بارے میں کیوں فکر ہو رہی ہے؟ یقیناً اللہ عزوجل کوئی بھی مخلوق پیدا کرے، ہم ہمیشہ اس کے ہاں اس سے برتر رہیں گے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح عن الحسن البصري لكنه لم يذكر المصدر