سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
129. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 549 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 549
نَا نَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180، قَالَ:" يُطَوَّقُ شُجَاعًا أَقْرَعَ بِفِيهِ زَبِيبَتَانِ يَنْقُرُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكِ؟، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِي" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: وہ مال قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا، جس کے منہ کے دونوں کناروں پر زہریلے دانت ہوں گے، وہ اس کے سر کو ڈسے گا، تو وہ کہے گا: تجھ سے میرا کیا تعلق؟ تو وہ سانپ کہے گا: میں تیرا وہ مال ہوں جس پر تو بخل کرتا تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2256، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3187، 3188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2440، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2233، 11018، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3012، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1784، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 549، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7324، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3647، والحميدي فى (مسنده) برقم: 93، والبزار فى (مسنده) برقم: 1743، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10801»
الحكم على الحديث: سنده حسن لذاته لأجل عاصم، ولم يتفرد به، فهو صحيح لغيره كما سيأتي، والحديث وإن كان موقوفًا على ابن مسعود، فله حكم الرفع؛ لأنه لا يقال بالرأي، وقد روي مرفوعًا بإسناد صحيح كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 550 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 550
نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: " هُوَ الرَّجُلُ يَرْزُقُهُ اللَّهُ الْمَالَ، فَيَمْنَعُ قَرَابَتَهُ الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ فِي مَالِهِ، فَيُجْعَلُ حَيَّةً، فَيُطَوَّقُهَا فَيَقُولُ لِلْحَيَّةِ: مَا لِي وَمَا لَكِ؟، فَتَقُولُ: أَنَا مَالُكَ" .
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جسے اللہ مال عطا کرتا ہے، مگر وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس مال میں اللہ کی مقرر کردہ حق داریاں نہیں دیتا، تو وہ مال ایک سانپ بنا دیا جاتا ہے اور اس کے گلے کا طوق بنا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اس سانپ سے کہتا ہے: تجھ سے میرا کیا تعلق؟ تو وہ سانپ کہتا ہے: میں تیرا مال ہوں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 550]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 550، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10805»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خلف بن خليفة، ومعناه صحيح تقدم في الحديث الذي قبله.
ترقیم دار السلفیہ: 551 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 551
نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180 , قَالَ:" طَوْقٌ مِنْ نَارٍ" .
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ (جو کچھ وہ بخل کرتے رہے، قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا) اس سے مراد آگ کا طوق ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 551، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10804»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.