صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقام نہ لیتے مگر اللہ کے واسطے۔
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6045
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے (ایک کا) انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ان دونوں میں سے زیادہ آسان کو منتخب فرماتے۔ بشرط یہ کہ وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، سوائے اس صورت کے کہ اللہ کی حد کو توڑا جاتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6045]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کے انتخاب اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار کیا۔ بشرطیکہ گناہ کا باعث نہ ہوتا، اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کی خاطر بدلہ نہیں لیا۔ الا یہ کہ کوئی اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیز کا مرتکب ہوتا (اس کی حرمت کوپامال کرتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6046
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،
منصور نے محمد سے۔ فضیل کی روایت میں ہے: ابن شہاب سے، جریر کی روایت میں ہے: محمد زہری سے۔ انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (یہی) روایت بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6046]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتےہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6047
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ.
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے مانند روایت کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6047]
ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6048
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں انتخاب کرنا ہوتا، ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت آسان ہوتا تو آپ ان میں سے آسان ترین کا انتخاب فرماتے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو۔ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6048]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کے اننتخاب کا اختیار دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے آسان تر کو پسند فرمایا، بشرطیکہ وہ گناہ کا باعث نہ ہو، اگر وہ گناہ کا کام ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6049
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: أَيْسَرَهُمَا، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ.
ابوکریب اور ابن نمیر دونوں نے عبداللہ بن نمیر سے، انہوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ان کے قول ”دونوں میں سے زیادہ آسان“ تک روایت کی اور ان دونوں (ابوکریب اور ابن نمیر) نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6049]
امام صاحب کے دو اساتذہ یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن، آسان تر تک بیان کرتے ہیں، بعد والا حصہ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6049]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2328 ترقیم شاملہ: -- 6050
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، نہ کسی عورت کو، نہ کسی غلام کو، مگر یہ کہ آپ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہوں۔ اور جب بھی آپ کو نقصان پہنچایا گیا تو کبھی (ایسا نہیں ہوا کہ) آپ نے اس سے انتقام لیا ہو مگر یہ کہ کوئی اللہ کی محرمات میں سے کسی کو خلاف ورزی کرتا تو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لے لیتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6050]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں جہاد کے سوا کسی عورت یا غلام کو کبھی اپنے ہاتھ سے نہیں پیٹا اورکبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی طریقہ سے اذیت نہیں پہنچائی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کرنے والے سےانتقام لیا ہو، الا یہ کہ اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء کی خلاف ورزی کی گئی ہو تو اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2328 ترقیم شاملہ: -- 6051
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
عبدہ، وکیع، اور ابومعاویہ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان میں سے کوئی راوی دوسرے سے کچھ زائد (الفاظ) بیان کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6051]
امام صاحب کے تین اساتذہ، دوسندوں سے کم وبیش کرتے ہوئے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6051]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة