🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

188. قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 729 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 729
نا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ سورة المائدة آية 33 قَالَ: " إِذَا قَتَلَ الْمُحَارِبُ قُتِلَ، وَإِذَا قَتَلَ وَأَخَذَ الْمَالَ صُلِبَ، وَإِذَا أَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلْ قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ مِنْ خِلافٍ، وَإِذَا دَفَّ فِي الطَّرِيقِ، وَأَخَافَ السَّبِيلَ، وَلَمْ يَأْخُذْ مَالا، وَلَمْ يَقْتُلْ نُفِيَ مِنَ الأَرْضِ" .
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: اگر محارب نے کسی کو قتل کیا ہو تو اسے قتل کیا جائے، اگر قتل کے ساتھ مال بھی لوٹا ہو تو سولی پر چڑھایا جائے، اگر صرف مال لوٹا ہو اور قتل نہ کیا ہو تو اس کا ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دیے جائیں، اور اگر صرف راستہ زبردستی روکا ہو، لوگوں کو ڈرایا ہو، نہ مال لوٹا ہو اور نہ قتل کیا ہو تو اسے جلاوطن کیا جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 729]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 730 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 730
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: نا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ،
یہ روایت حسن بصری رحمہ اللہ تابعی سے بھی مروی ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 730، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29619، 33468، 33469»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لما تقدم عن حال أبي حُرَّة، وهو صحيح لغيره كما سيأتي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 731 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 731
وأنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ،
عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور میں نے یہ بات ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت کی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف عُبيدة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 732 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 732
وَجُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ،
مجاہد رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ امام کو محارب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 732، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33468»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف جدًّا لما تقدم عن حال جويبر وتدليس هشيم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 733 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 733
وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ،
مجاہد رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ امام کو محارب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 733، 734، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 18549، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29619، 33468»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، وهو حسن لغيره عن مجاهد ما سيأتي في الحديث بعده رقم [٧٣٤]، وصحيح لغيره عن عطاء كما سيأتي في الحديث رقم [٧٣٥].
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 734 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 734
وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ , قَالُوا: " الإِمَامُ مُخَيَّرٌ فِي الْمُحَارِبِ، أَيَّ ذَلِكَ شَاءَ فَعَلَ" .
حجاج بن ارطاة رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: امام کو محارب کے بارے میں اختیار ہے، ان میں سے جو سزا چاہے دے سکتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 733، 734، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 18549، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29619، 33468»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لما تقدم عن حال حجاج وعدم تصريحه بالسماع، وهو صحيح لغيره عن عطاء كما في الحديث الآتي برقم [٧٣٥]، وحسن لغيره عن مجاهد بالطريق السابقة رقم [٧٣٣]، وهذه الطريق التي يرويها حجاج بن أرطأة عنه، وطريق القاسم بن أبي بَزَّة الآتية في التخريج.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 735 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 735
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ , قَالَ: " مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ، أَوْ كَذَا، أَوْ كَذَا، فَهُوَ بِالْخِيَارِ" .
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن میں جہاں ﴿يَا هَٰذَا﴾، ﴿يَا هَٰذَا﴾، ﴿يَا هَٰذَا﴾ کا ذکر ہو، تو وہاں اختیار ہوتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 736 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 736
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الْحَمِيدِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْعِرَاقِ بِثَلاثَةِ نَفَرٍ قَدْ قَطَعُوا الطَّرِيقَ، وَخَذَمُوا بِالسُّيُوفِ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ نَاسٌ بِقَتْلِهِمْ، فَاسْتَشَارَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: لا تَفْعَلْ، فَنَهَيْتُهُ أَنْ يَقْتُلَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَعْلَمُ مِنْ رَأْيِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ، أَنَّهُ لا يَسْتَحِلُّ قَتْلَ شَيْءٍ كَانَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قَتَلَ أَحَدَهُمْ، ثُمَّ أَخَذَ بِقَلْبِهِ بَعْضُ مَا قُلْتُ، فَكَتَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى عُمَرَ، فَجَاءَهُ جَوَابُهُ جَوَابًا غَلِيظًا، يُقَبِّحُ لَهُ مَا صَنَعَ، وَفِي الْكِتَابِ:" فَهَلا إِذْ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الآيَةَ وَرَأَيْتَ أَنَّهُمْ أَهْلَهَا أَخَذْتَ بِأَيْسَرِ ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَإِنَّ رَأْيَ الَّذِي يُنْتَهَى إِلَى رَأْيِهِمْ بِالْمَدِينَةِ مُدَّعِيًا أَنَّهُ لَيْسَ بِالْمُحَارِبِ الَّذِي يَتَلَصَّصُ وَيَسْتَخْفِي مِنَ السُّلْطَانِ وَيَغْزُو، لَكِنَّهُمْ قَالُوا: إِنَّ الْمُحَارِبَ الَّذِي يُفْسِدُ نَسْلَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلا يُجِيبُ دَعْوَةَ السُّلْطَانِ .
ابو الزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبد الحمید جو عراق کا گورنر تھا، اس کے پاس تین آدمی لائے گئے جنہوں نے راستہ کاٹا اور تلواروں سے حملہ کیا، کچھ لوگوں نے ان کے قتل کا مشورہ دیا، اس نے مجھ سے رائے لی تو میں نے منع کیا کیونکہ مجھے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی رائے معلوم تھی کہ وہ اس حال میں قتل کو جائز نہیں سمجھتے، لیکن لوگوں کے اصرار پر ان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا، پھر گورنر کو میری بات کا کچھ احساس ہوا تو عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا، ان کا سخت جواب آیا جس میں اس کے فعل کو برا کہا، اور لکھا: اگر تم نے اس آیت پر غور کیا ہوتا اور دیکھا ہوتا کہ وہ اس کے مصداق ہیں تو تم ان پر سب سے ہلکی سزا جاری کرتے، ابو الزناد کہتے ہیں: مدینہ میں جو اس مسئلہ میں صاحب رائے تھے وہ کہتے تھے کہ محارب وہ ہے جو مسلمانوں کی نسل بگاڑتا ہے، سلطان کی دعوت کو قبول نہیں کرتا، چوری چھپے نہیں بلکہ اعلانیہ فساد کرتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 736]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لما تقدم عن حال عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وهو صحيح لغيره؛ لأن عبد الرحمن تابعه الإمام مالك كما سيأتي، مع بعض الاختلاف في المتن والاختصار.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں