صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب وُجُوبِ اتِّبَاعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا واجب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2357 ترقیم شاملہ: -- 6112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا سورة النساء آية 65.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں (برساتی نالیوں) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے۔ انصاری کہتا تھا: پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے، انہوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ (کو نرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان) سے کہا: "تم (جلدی سے اپنے باغ کو) پلا کر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کر دو۔" انصاری غضبناک ہو گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس لیے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے۔ (صدمے سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: "زبیر! (باغ کو) پانی دو، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گئے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے۔" زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت: "نہیں! آپ کے رب کی قسم! وہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے" اسی (واقعے) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6112]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کا، حرّہ کی نالیوں کے بارے میں، جن سے وہ نخلستان کو پانی پلاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا، انصاری نے کہا: پانی کو چھوڑ دیجیے وہ بہتا رہے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑا پیش ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! بقدر ضرورت زمین کو سیراب کر لو اور پھر پانی پڑوسی کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری غصہ میں آ گیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ فیصلہ اس لیے ہوا کہ یہ آپ کا پھوپھی زاد ہے! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! زمین کو پانی پلاؤ، پھر پانی روک لو حتیٰ کہ وہ منڈیر (روک) تک پہنچ جائے۔“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرے خیال میں یہی آیت اس سلسلہ میں اتری ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65] ”بات وہ نہیں جو یہ سمجھتے ہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک اپنے اختلافات میں آپ کو حکم تسلیم نہ کریں، پھر آپ کے فیصلہ کے بارے میں، اپنے دلوں میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6112]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2357
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة